عمران خان کا پمز میں آنکھوں کا معائنہ اور طبی عمل : وزیر اطلاعات ، سہیل آفریدی کا اڈیالہ کے باہر دھرنا

عمران خان کا پمز میں آنکھوں کا معائنہ اور طبی عمل : وزیر اطلاعات ، سہیل آفریدی کا اڈیالہ کے باہر دھرنا

طبی ماہرین کی تجویز پر پمز لایا گیا ، تحریری رضامندی کے بعد 20منٹ چیک اپ ،صحت مند ہیں:عطاتارڑ خاندان بے خبر :سلمان اکرم ،حقائق چھپانا طبی دہشتگردی:وزیراعلیٰ پختونخوا، مجرمانہ غفلت:اچکزئی

 اسلام آباد(نامہ نگار)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ طبی ماہرین کی تجویز پر بانی پی ٹی آئی کا پمز میں آنکھوں کا معائنہ اور طبی عمل ہوا، بانی پی ٹی آئی بالکل صحت مند ہیں، تمام قیدیوں کو صحت کی سہولیات میسر ہیں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آنکھوں کے طبی ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کا معائنہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے تجویز کیا کہ معمولی طبی کارروائی کے لئے انہیں پمز لے جانا ضروری ہے ، طبی ماہرین کی سفارش پر گزشتہ ہفتے کی رات انہیں پمز لایا گیا جہاں ان کی آنکھوں کا معائنہ ہوا، بانی پی ٹی آئی کی تحریری رضامندی کے بعد تقریباً 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی جس کے بعد انہیں ضروری ہدایات کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل لے جایا گیا ۔ طبی کارروائی کے دوران بانی پی ٹی آئی سٹیبل اور بالکل صحت مند تھے ۔تمام قیدیوں کو طبی سہولت تک رسائی حاصل ہوتی ہے ، یہ رولز کے مطابق ہے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طبی کارروائی کے دوران بانی پی ٹی آئی بالکل صحت مند تھے ،بانی کی رضامندی کے بعد 20 منٹ میں طبی کارروائی پوری کرکے انہیں واپس لے جایا گیا۔ 

راولپنڈی (احمد بھٹی ،خصوصی نیوز رپورٹر ، ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں ،اپوزیشن جماعتوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان سے ملاقاتوں میں مسلسل رکاوٹ کو غیر آئینی، غیر انسانی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی قرار دے دیا ،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جیل کے باہر دھرنا دینے دیتے ہوئے کہا کہ صبح یہاں سے ہی سپریم کورٹ جائیں گے ،سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے مینا خان آفریدی ،شفیع جان ، سلمان اکرم راجہ ، شاہد خٹک ،فلک ناز،ڈاکٹر شفقت ایاز ، جاوید خان ،پردیپ کمار بلونت کمار اور دیگر کے ہمراہ گورکھ پور کے راستے فیکٹری ناکے پر پہنچے جہاں پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا جس پر سہیل آفریدی اور دیگر نے وہی پر دھرنا دیدیا، سہیل آفریدی کا سات گھنٹے سے فیکٹری ناکہ پر دھرنا ، 35 اراکین اسمبلی کو بھی دھرنے میں پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ۔

۔پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ نے راولپنڈی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی، جبکہ ان کی صحت کے حوالے سے آنے والی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا، مگر اس بارے میں نہ تو اہلِ خانہ کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی ذاتی معالج کو اعتماد میں لیا گیا، جو باعثِ تشویش ہے ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا طبی دہشت گردی کے مترادف ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے کہ اس کا علاج اس کے ذاتی معالج سے کروایا جائے ، مگر عمران خان کو خفیہ طور پر رات کے وقت جیل سے پمز منتقل کیا گیا اور اہلِ خانہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صورتحال اتنی سنگین تھی تو خاندان اور ذاتی ڈاکٹر کو کیوں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔سلمان اکرم راجہ نے انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو خفیہ طور پر پمز منتقل کیا گیا اور چھ روز تک حکومتی وزرا اس خبر کی تردید کرتے رہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ عمران خان کو انجکشن لگائے گئے ، جو فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی کے بغیر ناقابلِ قبول ہے ،سلمان اکرم راجا نے بانی پی ٹی آئی کے تین ذاتی معالجین کو بھی طلب کر لیا، ادھر پی ٹی آئی کے ترجمان شفیع جان نے کہا کہ کسی بھی قیدی کو ہسپتال منتقل کرنے کی صورت میں اس کے اہلِ خانہ کو مطلع کرنا قانونی تقاضا ہے ، جس کی خلاف ورزی کی گئی ۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کا فوری طبی معائنہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں سے کروایا جائے اور ان کی فیملی، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے بلا تاخیر ملاقات کروائی جائے ۔ کور کمیٹی نے خبردار کیا کہ اگر ملاقاتوں میں رکاوٹ برقرار رہی تو خیبر پختونخوا سمیت دیگر شہروں میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی جا سکتی ہے ۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کو اہلِ خانہ اور ذاتی معالجین کی لاعلمی میں ہسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت اور آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ،اس اقدام کو آئین، قانون اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری وضاحت کا مطالبہ کیا ،محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کو فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر ہسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان کو بغیر اطلاع پمز منتقل کرنا آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کو ان کے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینا غیر آئینی اقدام ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی طبی حالت کو فی الفور اہلِ خانہ کے سامنے لایا جائے اور خبردار کیا کہ عمران خان کے معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

عمران خان ایک قیدی ہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے خفیہ سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالجین اور اہلِ خانہ سے دور رکھنا غیر انسانی اقدام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک قیدی کو لاعلم رکھ کر ہسپتال منتقل کرنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ، عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا ابہام قبول نہیں کیا جائے گا ،انہوں نے خبردار کیا کہ عمران خان کی جان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھیل ناقابلِ برداشت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت پر ریاستی اداروں کی خاموشی تشویشناک اور سوالیہ نشان ،اس معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ،انہوں نے 8 فروری کو ملک گیر شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دیتے ہوئے کہا کہ قوم اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں