خواتین ہراسگی میں VPN کا استعمال، 80 فیصد مجرم پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن

خواتین ہراسگی میں VPN کا استعمال، 80 فیصد مجرم پکڑنا مشکل ہی نہیں ناممکن

80فیصدواقعات وی پی این کے ذریعے ہوتے، ٹریس کرنا ناممکن، مجرموں تک پہنچنا مشکل : وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت مکمل لائسنسنگ ممکن نہ ہی فری وی پی این پر پابندی لگائی جا سکتی ، فری لانسرز متاثر ہوں گے :پی ٹی اے اعلیٰ عہدیدار

 اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان میں خواتین کو آن لائن ہراسانی کا مسلسل سامنا ہے ، اول تو یہ کیسز رپورٹ نہیں ہوتے ، جو رپورٹ ہوتے ہیں ان کے مجرموں تک پہنچنا انتہائی مشکل ہے ۔ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت (فوسپا) کا کہنا ہے کہ آن لائن ہراسانی کے جتنے کیسز سامنے آتے ان میں 80فیصد وی پی این کے ذریعے ہوتے اور ایسے کیسز ٹریس کرنا ناممکن ہے ، تدارک ضروری ہے۔ فوسپا حکام کا کہنا تھا اس کیلئے وی پی این کی لائسنسنگ ضروری ہے۔ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں چیئرمین پی ٹی اے نے کہا تھا کہ وی پی این سے متعلق اکتوبر 2024 میں وزارتِ قانون سے رائے مانگی تاہم کوئی گائیڈ لائنز نہیں آئیں۔ گزشتہ روز پی ٹی اے کے نمائندے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ وی پی این کی لائسنسنگ شروع کر دی ہے ۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ دنیا کو بتایا کہ وی پی این کی مکمل لائسنسنگ ممکن نہیں اور فری وی پی این پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ فری لانسرز متاثر ہوں گے ۔ ہراسانی کیسز سے متعلق پولیس حکام نے بتایا کہ خواتین آن لائن ہراسانی کے کیسز لوکل پولیس کے ساتھ رپورٹ کرتی ہیں لیکن 2025 میں پیکا ترمیم کے بعد اب پولیس کے پاس یہ اختیار نہیں رہا، اس کا بھی سدباب کیا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں