آلو 8 روپے کلو، پیداواری لاگت 25 روپے، برآمدات میں بھی مشکلات : قائمہ کمیٹی کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ

آلو 8 روپے کلو، پیداواری لاگت 25 روپے، برآمدات میں بھی مشکلات : قائمہ کمیٹی کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ

صرف اوکاڑہ میں آلو کی فصل کو 30ارب کا نقصان ، حالات ایسے ہو چکے کاشتکاروں کو جمع پونجی اور زیور تک بیچنے پڑ سکتے :رائو جمیل شوگرملز مالکان کسانوں کو دو دو سال ادائیگی نہیں دیتے :چیئرمین کمیٹی، چاول بھی مارکیٹ میں پڑاہے برآمد نہیں ہورہا :کمیٹی ارکان

اسلام آباد(اسلم لڑکا ) قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ میں بتایا گیا کہ رواں سال آلو 8 روپے کلو فروخت ہو رہا جبکہ پیداواری لاگت 25 روپے کلو ہے جس سے کاشتکاروں کو شدید نقصان ہوا۔صرف اوکاڑہ میں آلو کی فصل کو 30ارب کا نقصان ہوا ، حالات ایسے ہو چکے کہ کاشتکاروں کو جمع پونجی اور زیورات تک بیچنے پڑ سکتے ۔کمیٹی نے آلو کی برآمدات میں کمی اور کاشتکاروں کو متبادل راستے فراہم کرنے کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کو ہدایت کی کہ وہ وزارت تجارت، وزارت خارجہ، حکومت پنجاب کے محکمہ زراعت، نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی)، آلو کے کاشتکاروں کی سوسائٹی اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس بلائے اور 26 فروری تک کمیٹی کو رپورٹ بھیجے ۔

کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید طارق حسین کی سربراہی میں ہوا جس میں کمیٹی ارکان نے کہاکہ شوگرملز مالکان کٹائی کے بعد گنے کی قیمت کم کر دیتے اور دو دو سال تک ادائیگی نہیں کرتے ، ابھی گنے کی قیمت کسانوں کو نہیں مل رہی ڈی ریگولیشن کے بعد کیا ہوگا۔گنے کا ریٹ ایک دن میں پانچ سو روپے کرتے ہیں۔ کٹائی کے بعد قیمت گرا کر چار سو کردیتے ہیں۔شوگر ملز بروقت کرشنگ شروع نہیں کرتیں بعد میں کون پابند کرے گا۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ ملز مالکان کسانوں کو دو دو سال گنے کی قیمت نہیں دیتے ۔ ارکان کمیٹی نے کہاکہ پہلے جس طرح گندم مرغی کھاگئی اسی طرح چاول مرغی کی غذا بن رہا ہے ۔ چاول مارکیٹ میں پڑاہے برآمد نہیں ہورہا ۔ اجلاس میں سابق رکن قومی اسمبلی راؤ محمد اجمل نے بتایا کہ اس سال آلو 8 روپے فی کلو فروخت ہوا جبکہ پیداواری لاگت 25 روپے فی کلو رہی جس سے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ کاشتکاروں کو اپنی جمع پونجی اور زیورات تک فروخت کرنے پڑ سکتے ہیں۔راؤ اجمل نے بتایا کہ قازقستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا راستہ بند ہے جبکہ ایران کا روٹ بھی موجودہ حالات میں سازگار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے تافتان تک آلو کی ترسیل میں کئی دن لگتے ہیں جبکہ ڈرائیورز کے پاس ویزے نہ ہونے کی وجہ سے مزید تاخیر ہوتی ہے ۔ افغانستان کے لیے پہلے 7 سے 8 دن میں ترسیل ہوتی تھی جو اب بڑھ کر 20 سے 25 دن ہو گئی ہے جس سے آلو کے خراب ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے اور اخراجات تین گنا ہو جاتے ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے پر نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کو شامل کیا جائے کیونکہ ان کے ڈرائیورز کے پاس پاسپورٹ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق صرف اوکاڑہ میں آلو کی فصل کو 30 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔کمیٹی نے آلو کی برآمدات میں کمی اور کاشتکاروں کو متبادل راستے فراہم کرنے کا معاملہ وزیر اعظم کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

کمیٹی ارکان نے وزارت تجارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ افغان روٹ اکتوبر سے بند ہے مگر متبادل روٹ پر پیش رفت نہیں کی گئی۔ وزارت تجارت نے غذائی تحفظ کی وزارت سے پیر تک جامع پلان طلب کر لیا۔وزارت صنعت و پیداوار نے شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے کمیٹی کے سات اجلاس ہو چکے ہیں اور شوگر ملز اور کسانوں کو آن بورڈ لیا جائے گا جبکہ سخت ریگولیٹری مانیٹرنگ فریم ورک بنایا جائے گا۔کمیٹی ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ ابھی بھی کسانوں کو گنے کی قیمت بروقت نہیں مل رہی، ڈی ریگولیشن کے بعد صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے ۔ ارکان نے کہا کہ ملز مالکان کٹائی کے بعد گنے کی قیمت کم کر دیتے ہیں اور بعض اوقات دو دو سال تک ادائیگی نہیں کرتے ۔

کین کمشنر پنجاب امجد حفیظ نے بتایا کہ چنار شوگر ملز کو بقایاجات کی ادائیگی تک کرشنگ سے روکا گیا اور 246 چھوٹے کاشتکاروں کو ادائیگی کے بعد اجازت دی گئی۔ پنجاب میں 42 ملین میٹرک ٹن میں سے 28 ملین میٹرک ٹن گنے کی کرشنگ ہو چکی ہے جبکہ تاخیر کرنے والی ملوں پر جرمانے کیے گئے ہیں۔ سندھ میں 9 ملین میٹرک ٹن گنے کی کرشنگ ہو چکی ہے اور وہاں ریٹ 430 روپے فی من ہے ۔وزارت تجارت نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ میں ایک ارب ڈالر کی چاول کی برآمدات ہوئیں۔ ایکسپورٹرز کو مسابقت کے لیے 30 ارب روپے کے ریلیف پلان کی تیاری کی گئی ہے ، جو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ سے فراہم کیا جائے گا۔ باسمتی چاول پر 9 فیصد اور عام چاول پر 3 فیصد ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے ۔وزارت تجارت کے حکام نے خبردار کیا کہ بھارت دوبارہ عالمی مارکیٹ میں آیا تو پاکستان کو سخت مقابلے کا سامنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں