اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی، ججز فیصلے جلد کریں : چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی، ججز فیصلے جلد کریں : چیف جسٹس سرفراز ڈوگر

چوری ، عصمت دری کیسز میں اضافہ ہورہا، فوجداری ثبوت کیلئے فارنزک رپورٹ لی جائے ،تفتیشی کی تربیت ضروری ماڈل جیل کا کام بلا تاخیر مکمل کیاجائے ،وزارت پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے مسائل حل کرے ،جسٹس کمیٹی اجلاس میں ہدایت

اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر کی زیر صدارت جسٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا، اسلام آباد ماڈل جیل کے تعمیراتی منصوبے کے امور اور پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا، بتایا گیا کہ منصوبے کا تعمیراتی کام 85فیصد مکمل ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ماڈل جیل کا کام بلا تاخیر 30جون 2026تک اور عملے کی تعیناتی بھی بیک وقت مکمل کی جائے تاکہ قیدیوں کی منتقلی یکم جولائی 2026سے شروع کی جا سکے ، آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو بھی مدعو کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی خاص طور پر چوری، حادثات اور عصمت دری کے کیسز میں اضافہ ہورہا، عصمت دری کے کیسز میں فوجداری ثبوت کیلئے فارنزک لیبارٹری رپورٹ حاصل کی جانی چاہیے ، مجرموں کی مناسب تحقیقات کی جائیں،تفتیشی افسروں کی تربیت بھی ضروری ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ضلعی عدالتوں کے ججز پر زور دیا جائے کہ وہ مقدمات کے جلد فیصلے کریں۔ سیف سٹی نگرانی کے نظام کے حوالے سے بتایا گیا کہ آئی سی ٹی کے تقریباً 35فیصد حساس علاقوں کو سی سی ٹی وی کے ذریعے کور کیا گیا ہے ، تازہ رپورٹ کے مطابق 17چوری شدہ گاڑیوں کی واپسی اور 15مفرور مجرموں کی شناخت ممکن ہوئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس، فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس اور ججز کی رہائش گاہوں کے سکیورٹی انتظامات مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہوا، چیف جسٹس نے جوڈیشل کمپلیکس میں ہنگامی اخراج کے مزید دروازے بنانے اور جوڈیشل کمپلیکس میں الارم سسٹم نصب کرنے کی ہدایت دی۔ پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی اور چالان جمع کرانے کا جائزہ لیا گیا،وفاقی پراسیکیوٹر جنرل نے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی، چیف جسٹس نے متعلقہ وزارت سے کہا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں