صنعتوں کیلئے بجلی4.04روپے یونٹ سستی:حکومت اور فوج کی پارٹنر شپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرے گا:شہباز شریف

صنعتوں  کیلئے بجلی4.04روپے یونٹ  سستی:حکومت اور فوج  کی پارٹنر شپ  اسی  طرح چلتی  رہی  تو  پاکستان دنیا  کے نقشے  پر مضبوط ملک بن  کر ابھرے گا:شہباز شریف

ایکسپورٹ ری فنانسنگ شرح میں 3فیصد ،ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی ،ایوارڈ یافتہ برآمدکنندگان کو بلیو پاسپورٹ مراعات ملیں گی، ایڈوانس ٹیکس کا معاملہ آئی ایم ایف کیساتھ اٹھائیں گے :وزیراعظم فیلڈ مارشل کے تعاون سے بہت سے معاملات حل،معرکہ حق نے دھاک بٹھادی،دنیا میں اب بات مانی جاتی،غربت ، بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا ،ترقی سے بھارت کو غشی کے دورے پڑینگے ،خطاب،ایوارڈز تقسیم

اسلام آباد(نامہ نگار)وزیر اعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی چار روپے چار پیسے مزید سستی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرے گا۔وزیراعظم نے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کو 2024 اور2025میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈز دینے کی تقریب میں ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ، ویلنگ چارجز میں 9 روپے کی کمی ،نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بڑے برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کی مراعات کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا برآمدکنندگان کی غیرمتزلزل محنت سے ملک میں اربوں ڈالر آئے ، معیشت مستحکم سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہورہی ہے ، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لئے بڑا چیلنج تھا،حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا جبکہ کچھ سازشی عناصر ملک کے دیوالیہ ہونے کی امیدیں کیے بیٹھے تھے لیکن ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔

آئی ایم ایف پروگرام کی وجہ سے عام آدمی اور کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی قربانیوں کی بدولت ملک ترقی کررہا ہے ،مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آرہی ہے ، پالیسی ریٹ22فیصد سے کم ہوکر ساڑھے 10 فیصد تک آچکا ہے ۔انہوں نے کہا فارن ایکسچینج ریزروز ڈبل ہوچکے ہیں ، اس میں بلاشبہ دوست ممالک کے قرضے بھی شامل ہیں جس کیلئے انہوں نے اور فیلڈ مارشل نے کئی ممالک کے دورے کیے ۔وزیر اعظم نے چین، سعودی عرب ، یو اے ای ، قطر سمیت دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل ترین حالات میں مدد کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قرضوں سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں،ہمیں دوست ممالک کی خواہشات کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور ہمارا سر جھک جاتا ہے اس لیے معیشت کا مستحکم ہونا کافی نہیں ، غربت ، بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا۔

برآمدات مزید بڑھانا ہوں گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ معرکۂ حق میں فتح کے بعد پاکستان کا دنیا میں منفرد مقام بن چکا ہے ، بھارت کو ایسی شکست دی ہے کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں گی، فتح کے بعد دنیا ہمیں رشک و محبت سے دیکھ رہی ہے ، عالمی دوروں کے دوران عالمی سربراہان اور رہنماؤں کے رویے تبدیل ہوتے دیکھے ہیں، دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کو اب عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، معرکہ حق کے بعد مختلف ممالک کے سربراہان جو پہلے سلام لینے میں ہچکچاتے تھے اب آکر بغلگیر ہوتے ہیں، دنیا پر ہماری ایسی دھاک بیٹھ گئی ہے کہ اب ہماری بات مانی جاتی ہے ، سرمایہ کاری کے لئے رابطے کئے جارہے ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتی و عسکری کامیابی کے بعد معاشی کامیابی اہم چیلنج ہے ، یہ ایک کٹھن سفر ہے جس کیلئے خون پسینہ بہانا ہوگا اور دن رات کام کرنا ہوگا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کا سفر اب شروع ہوا چاہتا ہے ، برآمدات و درآمدات میں توازن لانا ہوگا۔ وزیراعظم نے ایوارڈز حاصل کرنے والوں کو دو سال کیلئے بلیو پاسپورٹ اور ایمبیسیڈر ایٹ لارج کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں ہوتے ہوئے سب نے دیکھی، شفافیت کے عمل کو یقینی بناکر نجکاری ہوگی، پی آئی اے کی ترقی کے لئے حکومت بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم نے حکومتی اخراجات کم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلیٹی سٹورز کو کرپشن اور ناقص کارکردگی کے باعث بند کردیا گیا ہے ، پاسکو کو بھی ناقص کارکردگی پر بند کردیا، اداروں میں بہتری کے لئے اصلاحات لارہے ہیں، ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے گھر بیٹھے مستحقین کو 16 ارب روپے رمضان پیکیج کی مد میں دیئے ، رواں سال 40 ارب روپے سفید پوشوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے تقسیم کریں گے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے آئی ایم ایف حکام کہتے تھے کہ پاکستانی حکومت جو کہتی ہے کرکے نہیں دکھاتی، اب وہ کہتے ہیں کہ ہم کرکے دکھاتے ہیں ، ان کے یہ الفاظ صرف میرے لیے اعزاز نہیں بلکہ یہ ملک کیلئے قابل فخر ہیں۔ وزیر اعظم نے صارفین سے وصولی کرکے قومی خزانے میں ٹیکس جمع نہ کرانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیکس دینا ہوگا، کوئی معافی نہیں ملے گی، سب سے پہلے شوگر ملز سے 50ارب کی ریکوری کی، سرحدوں سے پٹرولیم کی سمگلنگ بند ہو چکی ، ماہانہ ریونیو میں اضافہ ہوگیا، اس سلسلے میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے جنہوں نے سرحدوں پر سختی کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے سیاسی و عسکری قیادت ملکر فیصلے کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمباکو کی صنعت ایک صوبے میں زیادہ ہے ، وہاں ٹیکس جمع کرنے کیلئے اقدامات تیز کر رہے ہیں۔

انہوں نے ٹیکسٹائل ، لیدر اور ڈیجیٹل شعبے سمیت مختلف وزارتوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تمام وزرا کی کارکردگی کو سراہا، انہوں نے مزید کہاکہ فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے بہت سے معاملات کو حل کیا،سیاسی و عسکری تعاون سے ترقی کے تمام راستے کھل رہے ہیں، حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ اسی طرح چلتی رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط ملک بن کر ابھرے گا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدد نہ ہوتی تو کئی مسائل حل نہیں ہو سکتے تھے ، پاکستان ترقی کرے گا تو بھارت کو بھی غشی کے دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا تگڑا ملک کیسے بن گیا۔وزیر اعظم نے صنعت کے لئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ مزید کمی کا اعلان کیا۔ انہوں نے برآمد کنندگان کے لئے ٹیکس میں 3فیصد کمی کا بھی اعلان کیا اور کہاکہ برآمد کنندگان کے لئے ٹیکس ساڑھے 7 سے کم کرکے ساڑھے 4فیصد پر لارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ویلنگ چارجز میں کمی کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایڈوانس ٹیکس کا نفا ذ آئی ایم ایف کی مجبوری تھی اس لئے یہ لگانا پڑا، اس معاملہ کو بھی آئی ایم ایف کے ساتھ اٹھائیں گے ۔ انہوں نے برآمد کنندگان کیلئے ری فنانسنگ 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سے برآمد کنندگان کو بڑی سہولت ملے گی اور جن کو فنانس کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے استفادہ کر سکیں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کیلئے 1052 ارب روپے مختص کئے تھے جس میں سے 900 ارب روپے استعمال کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت برآمدکنندگان کو سٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ کے تحت 3 فیصد کا ریلیف حاصل تھا جسے اب مزید کم کرکے 4.5 فیصد کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے بینکوں کے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو بھی قرضے دیں۔ تقریب میں موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی پر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جبکہ وزیر اعظم نے لکی ٹیکسٹائل، صوفی انڈسٹریز، نوا ٹیکسٹائل، یو ایس اپیرل ٹیکسٹائل، آصف رائس ملز، الکرم ٹیکسٹائل، سفائر ٹیکسٹائل، غریب سنز رائس ملز ، ڈائمنڈ فیبرکس،ریاض ٹیکسٹائل، صداقت پرائیویٹ لمیٹڈ، سٹائل ٹیکسٹائل سمیت نمایاں برآمد کنندگان کو ایوارڈز بھی دیئے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے وزیر مملکت ارمغان سبحانی کی رہائشگاہ پر پہنچ کر ان کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعز یت کیا اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔مزید برآں شہباز شریف چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال کی رہائشگاہ بھی گئے اور ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور مرحوم کی بلندء درجات کیلئے دعا کی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں