پری زاد ڈرامے کا سیٹ کرپشن کا محل نکلا،نیب نے ریکورکرلیا

پری زاد ڈرامے کا سیٹ کرپشن کا محل نکلا،نیب نے ریکورکرلیا

ریکارڈ ساز ڈرامہ میں دکھایا گیا شاہانہ گھر کوہستان سکینڈل سے جڑا ہے :نیب کنستروں ،پینٹ کے ڈبوں سے بھی پیسے نکلے ،درجنوں لگژری گاڑیاں برآمد :حکام

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)مشہور ڈرامہ سیریل پری زاد جس نے ریکارڈ قائم کیا تھا، اس میں ایک عالی شان اور محل نما گھر دکھایا گیا تھا۔ اس ڈرامے میں دکھائے گئے اس عالی شان اور پر تعیش گھر کی بعد میں ویڈیوز بھی بنائی گئیں اور سوشل میڈیا پر چلتی رہیں لیکن آپ کو حیرت اس بات پر ہوگی کہ وہ گھر اب حکومت پاکستان کی ملکیت ہے ۔ جی ہاں، کہانی میں نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب پختونخوا کے مشہورِ زمانہ کوہستان سکینڈل کا انکشاف ہوا۔ یہ گھر اس سکینڈل میں ملوث افراد کا تھا جنہوں نے اربوں روپے کرپشن کے ذریعے بنا ئے تھے ۔ نیب حکام نے اپنی ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پری زاد ڈرامہ جس گھر میں فلمایا گیا تھا وہ بھی کرپشن کے پیسے سے بنایا گیا تھا اور ڈرامے میں جو گھر دکھایا گیا تھا اب نیب اس کو حکومت کے حوالے کر چکی ہے ۔

یہ گھر ان افراد نے بنایا تھا جو کوہستان سکینڈل میں شامل تھے ۔ ڈپٹی چیئرمین نیب نے بتایا کہ ہم نے پہلے فلموں میں دیکھا تھا کہ لوگ دیواروں میں پیسہ چھپاتے ہیں لیکن جب کوہستان سکینڈل سامنے آیا تو یہ چیزیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ آٹے کے کنستروں میں پیسے چھپائے گئے تھے ، اس کے علاوہ پینٹ کے ڈبوں میں کیش چھپائی گئی تھی اور طرح طرح کے طریقوں سے پیسے چھپائے گئے تھے ۔ تاہم اب کوہستان سکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں اور ان لوگوں سے اب تک 26 ارب روپے سے زائد رقم ریکور ہو چکی ہے ۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ نیب نے اسی کوہستان سکینڈل میں کرپشن سے حاصل کی گئی درجنوں لگژری گاڑیاں بھی برآمد کیں جنہیں خفیہ طور پر مختلف مقامات پر چُھپا کر رکھا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ ٹرک ڈرائیوروں، بینک ڈرائیوروں اور دیگر غیر متعلقہ افراد کے اکاؤنٹس میں خفیہ طور پر کروڑوں روپے رکھے گئے تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں