فائیو جی سپیکٹرم نیلامی کیلئے فیس،واجبات پالیسی کی منظوری
فیس میں تاخیر پر ماہانہ جرمانہ اور نادہندگی پر لائسنس معطل یا منسوخ کیا جا سکتا
اسلام آباد (ایس ایم زمان) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے ) نے فائیو جی سپیکٹرم لائسنس کی نیلامی کے لیے فیسوں، واجبات اور مالی قواعد سے متعلق پالیسی کی منظوری دے دی ۔ پی ٹی اے نے فائیو جی سپیکٹرم نیلامی میں کامیاب ہونے والی کمپنیوں کو فائیو جی سپیکٹرم لائسنس فیس اور دیگر رقوم کی ادائیگی پاکستانی روپے میں کرنے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔مذکورہ پالیسی کے مطابق فائیو جی سپیکٹرم لائسنس حاصل کرنے والی کامیاب بولی دہندہ کمپنیوں کو ابتدائی سپیکٹرم فیس، سالانہ ریگولیٹری فیس اور دیگر فنڈز کی مد میں ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ پی ٹی اے کے مطابق ابتدائی سپیکٹرم فیس (ISF) دو طریقوں سے ادا کی جا سکے گی۔ پہلے طریقہ کار کے تحت لائسنس کے اجرا کے پہلے سال کی تکمیل تک 100 فیصد فیس یکمشت ادا کرنا ہوگی۔دوسرے طریقہ کار کے مطابق کم از کم 50 فیصد فیس پہلے سال کے اختتام تک ادا کرنا لازم ہوگا جبکہ باقی 50 فیصد رقم پانچ مساوی سالانہ اقساط میں ادا کی جائے گی، جن کا آغاز دوسرے سال سے ہوگا۔ پی ٹی اے کے مطابق بقایا رقم پر ایک سالہ کائبر (KIBOR) شرح کے ساتھ 3 فیصد مارک اپ وصول کیا جائے گا، تاہم پہلے سال فیس وصول کی جائے گی اور نہ ہی مارک اپ لاگو ہوگا۔
کمپنی کو یہ سہولت بھی حاصل ہوگی کہ وہ پانچ سال کی مدت مکمل ہونے سے قبل کسی بھی وقت بقایا رقم ادا کر سکے گی جس پر کوئی جرمانہ عائد نہیں ہوگا۔پالیسی کے مطابق اگر کائبر ریٹ ختم ہو جائے تو وزارت خزانہ یا سٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے جاری کردہ متبادل شرح لاگو ہوگی۔ پی ٹی اے کے مطابق سالانہ لائسنس فیس (ALF) سروس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن کا 0.5 فیصد، یونیورسل سروس فنڈ (USF) مجموعی آمدن کا 1.5 فیصد اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ فنڈ (R&D) مجموعی آمدن کا 0.5 فیصد ہوگا۔ تمام فیسیں مالی سال کے اختتام کے 120 دن کے اندر ادا کرنا لازم ہوں گی، جبکہ سالانہ سپیکٹرم ایڈمنسٹریٹو فیس (ASAF) ہر سال 30 جون تک پیشگی ادا کرنا ہوگی۔پی ٹی اے کے مطابق واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں 2 فیصد ماہانہ لیٹ فیس عائد کی جائے گی، جبکہ مسلسل نادہندگی کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اتھارٹی کے مطابق اگر کوئی کمپنی واجب الادا رقم کی ادائیگی پر اعتراض کرے تو اسے متنازع رقم کا 50 فیصد بطور سکیورٹی جمع کرانا یا بینک گارنٹی دینا لازم ہوگا۔ پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی لائسنس یافتہ کمپنیاں یونیورسل سروس فنڈ کے تحت دیہی اور پسماندہ علاقوں میں سروس فراہمی کے لیے سبسڈی بھی حاصل کر سکیں گی۔