صوبوں کی عدم دلچسپی ،قومی اے آئی پالیسی التواکاشکار

صوبوں کی عدم دلچسپی ،قومی اے آئی پالیسی التواکاشکار

اے آئی انفراسٹرکچر کی شدید کمی ، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ ڈیٹا سینٹرز انتہائی کم مجوزہ اے آئی کونسل کی تشکیل نہ ہوسکی،حکومتی پالیسی بھی غیرواضح:ذرائع

اسلام آباد (حریم جدون)پاکستان کی قومی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پالیسی تاحال حتمی شکل اختیار نہ کر سکی، جس کی بڑی وجہ صوبوں کی جانب سے مسلسل خاموشی اور ادارہ جاتی تاخیر بتائی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک ماہ قبل صوبوں کو اے آئی پالیسی کے حوالے سے خط ارسال کیا تھا، تاہم اب تک کسی صوبے کی جانب سے باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اے آئی پالیسی کے تحت مجوزہ نیشنل اے آئی کونسل کی تشکیل بھی  التوا کا شکار ہے ، جو پالیسی سازی، ریگولیشن اور نفاذ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ منصوبے کے مطابق اے آئی کونسل میں وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی، وزارتِ خارجہ، وزارتِ تعلیم، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سمیت اہم وفاقی اداروں کی شمولیت متوقع ہے ۔دوسری جانب ملک میں اے آئی انفراسٹرکچر کی شدید کمی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ ڈیٹا سینٹرز نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس وقت صرف تین جامعات میں محدود سطح پر ایسے ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، جو جدید اے آئی ماڈلز اور ریسرچ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔اگرچہ ملک میں ٹیلی کام ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ سینٹرز اے آئی، مشین لرننگ اور بگ ڈیٹا پراسیسنگ کے لیے درکار صلاحیت نہیں رکھتے ۔ پرائیویٹ سیکٹر ڈیٹا سینٹرز کے قیام میں دلچسپی تو لے رہا ہے ، مگر حکومتی پالیسی اور ریگولیٹری فریم ورک غیر واضح ہونے کے باعث سرمایہ کاری سست روی کا شکار ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں