سپریم کورٹ:عمران خان کیخلاف13مقدمات کل سماعت کیلئے مقرر:خصوصی عدالت:ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ:عمران خان کیخلاف13مقدمات کل سماعت کیلئے مقرر:خصوصی عدالت:ذاتی معالج سے معائنے کی درخواست مسترد

القادر ٹرسٹ، سائفر کیس سے بریت کے خلاف اپیلیں، توشہ خانہ ،9مئی کیسزشامل، نوٹسز جاری، چیف جسٹس یحیٰ آفریدی کی سربراہی میں2 رکنی بینچ سماعت کریگا ایسے کیا حالات بنے رات گئے پمز لے جانا پڑا:وکیل بانی، قیدی کے ذاتی معالج کا رول نہیں:پراسیکیوٹر، معاملہ زیر سماعت نہ ہونے پر حکام کو بھجوا دیا:سپریم کورٹ اعلامیہ

اسلام آباد، راولپنڈی (اپنے نامہ نگار سے ، خبر نگار، مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف 13 مقدمات کل سماعت کیلئے مقرر کر دیئے گئے ، خصوصی عدالت نے ذاتی معا لج سے معائنے کی درخواست مسترد کر دی۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے 13 مختلف مقدمات سماعت کیلئے مقرر کر دیئے ، چیف جسٹس یحیٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ 9 فروری کو سماعت کرے گا۔ بانی تحریک انصاف اور بشریٰ بی بی کی ضمانتوں کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیلیں، بانی پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کی فوجداری شکایت کے خلاف اپیل، بانی پی ٹی آئی کے آفیشل سیکرٹریٹ اور نیب کے مقدمات پر سماعت فکس کر دی گئی، القادر ٹرسٹ کیس میں بانی کی ضمانت کے خلاف نیب اپیل، سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل، 9 مئی لاہور مقدمات میں بانی کی ضمانت کے خلاف حکومتی اپیل، ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی کی اپیلیں بھی سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی ہیں۔ رجسٹرار آفس نے تمام متعلقہ فریقین اور وکلاء کو نوٹسز جاری کر دیئے ۔

توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر کر دی گئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیس دوبارہ سپریم کورٹ نے سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔ ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو تین سال قید کی سزا سنائی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی تھی۔ الیکشن ایکٹ کی دفعات 167 اور 173 کے تحت سزا سنائی گئی تھی، بانی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس پر 9 فروری کو سماعت ہوگی۔ انسداد دہشتگرد ی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ سے متعلق دائر درخواست خارج کر دی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں ذاتی معالج کی سہولت حاصل رہی،بانی پی ٹی آئی ملک کے سابق وزیراعظم اور برابر سلوک کے مستحق ہیں۔

اڈیالہ جیل میں آنکھوں کی ٹریٹمنٹ کا انتظام نہیں، وہ انڈر ٹرائل قیدی ہیں ذاتی معالج سے میڈیکل چیک اپ حق ہے ، تین سال میں بانی کو کبھی جیل سے باہر نہیں لے جایا گیا، ایسے کیا غیر معمولی حالات بنے کہ رات گئے پمز ہسپتال لے جانا پڑا،استدعا ہے ذاتی معالجین کو اڈیالہ جیل میں رسائی دی جائے ۔ سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے درخواست کی مخالفت کی اور دلائل میں کہا بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی نہیں نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں ضمانت پر اور انڈر ٹرائل ملزم ہیں قیدی نہیں، کریمنل کورٹ کے پاس اختیار نہیں ضمانت پر کسی ملزم کی کسٹڈی ریگولیٹ کرے ، قیدی کے علاج معالجے کیلئے حکومت ڈاکٹرز کا تعین کرتی ہے ، پاکستان پرزن رولز میں پرائیویٹ ڈاکٹرز سے علاج کرانے کا کوئی ذکر نہیں، قیدی کیلئے ذاتی معالج کا پرزن رولز میں کوئی رول نہیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد بانی کیلئے ذاتی معالجین کی اڈیالہ جیل میں رسائی کی درخواست خارج کر دی۔ سماعت جج امجد علی شاہ نے کی۔

سپریم کورٹ نے چیف جسٹس پاکستان کو بانی پی ٹی آئی سے متعلق یاد داشت بھیجنے کے معاملہ میں احتجاج اور یاد داشت سے متعلق اعلامیہ جاری کر دیا جس میں کہاگیا کہ پی ٹی آئی اور اپوزیشن ارکان نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا، بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور میڈیکل رپورٹس کے حصول کا مطالبہ کیا گیا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے وفد کی جانب سے میمورنڈم وصول کیا،پی ٹی آئی وکیل سلمان اکرم راجہ کی چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کرائی گئی، سپریم کورٹ نے معاملہ زیر سماعت مقدمے سے متعلق نہ ہونے پر متعلقہ حکام کو بھجوا دیا، ایک ہفتے تک جواب موصول نہ ہونے پر پی ٹی آئی وفد دوبارہ سپریم کورٹ پہنچا، سپریم کورٹ نے ایسے معاملات کیلئے متاثرہ فریقین سے رابطے کیلئے ایس او پیز بنا دیئے جن میں انصاف تک رسائی اور ادارہ جاتی معاونت سمیت دیگر مسائل کو دیکھا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں