’’عون عباس قوم کا ’’ہیرو‘‘، نماز توڑ کر دہشتگرد کو دبو چ لیا ‘‘
ترلائی کا رہائشی حملہ آور کو ہال کے دروازے پر نہ روکتا تو جانی نقصان زیادہ ہوتا عون عباس نے جان دیکر کئی لوگوں کی جانیں بچائی ہیں،وہ ہیرو ہے :امام مسجد میرے دائیں اور بائیں عون اور ایک دوسرا شخص تھا جوشہید ہوگئے :زخمی لیاقت
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں خودکش حملے میں شہید ہونیوالے شہری عون عباس نے بہادری کی مثال قائم کردی ، فائرنگ کے بعد جب خود کش بمبار ہال میں داخل ہوا تو عون عباس نے اس کو دبوچ لیا اور خود کش بمبار نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑا دیا،اگرترلائی کا رہائشی عون عباس ایسا نہ کرتا اور حملہ آور کو ہال کے دروازے پر ہی نہ روکتا تو شاید جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا۔بی بی سی کو یہ بات ہال میں موجود دیگر لوگوں اور زخمیوں نے بتائی۔اصغر علی اس دھماکے میں زخمی ہوا ،اصغر علی کا کہنا تھا کہ نماز کے دوران اس کے ایک طرف عون عباس اور دوسری طرف ایک اور شخص کھڑا تھاجو حملے میں مارے گئے ہیں۔ فائرنگ کی آواز سن کر عون عباس نے اپنی نماز توڑ دی اور خود کش حملہ آور جو کہ ہال کے دورازے سے داخل ہورہا تھا کو دبوچ لیا۔ امامت کرنیوالے راجہ بشارت حسین کہتے ہیں کہ انہیں کئی نمازیوں نے بتایا کہ عون عباس نے فائرنگ کے بعد نماز توڑ کر حملہ آور کا راستہ روکا،اگروہ اندر صفوں کے درمیان میں آجاتا تو بہت نقصان ہوتا، عون عباس نے اپنی جان دے کر کئی لوگوں کی جانیں بچائی ہیں اور وہ ہیرو ہے ۔