سینیٹ اسلام آباد دہشتگردی کے خلاف قرار داد منظور : عمران نے تحریک طالبان کو جگہ دی، شیری کے ریمارکس پر اپوزیشن کا احتجاج

سینیٹ اسلام آباد دہشتگردی کے خلاف قرار داد منظور : عمران نے تحریک طالبان کو جگہ دی، شیری کے ریمارکس پر اپوزیشن کا احتجاج

ریمارکس پر معافی مانگیں :اپوزیشن ارکان، نہیں مانگوں گی:پی پی سینیٹر، سانحہ ترلائی کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے ، قرارداد میں مطالبہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے :اپوزیشن لیڈر ، سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہئے :پرویز رشید

اسلام آباد( اپنے رپورٹر سے ،نیوز ایجنسیاں ) سینیٹ میں وفاقی دارالحکومت میں دہشت گردی کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردانہ واقعہ کے خلاف انکوائری کرکے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، ایوان اس واقعہ کے خلاف جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتا ہے ، جوڈیشل انکوائری میں سابقہ ججز، ارکان پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے ، متن کے مطابق اس انکوائری کو چار ہفتوں میں مکمل کیا جائے ۔ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیاگیا۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ، عمران خان نے تحریک طالبان کو پاکستان میں جگہ دی، شیری رحمان کے ریمارکس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ، اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے ۔اس موقع پر اپوزیشن نے شیری رحمان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تاہم سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ میں ہرگز معافی نہیں مانگوں گی۔ آپ اپنی تقریر میں جواب دے دیجئے گا ۔

سینیٹ اجلاس کا معمول کا ایجنڈا معطل کر کے اسلام آباد دہشت گردی واقعے پر بحث کی گئی ، ارکا ن نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کا مطالبہ کیا ہے ،اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ عباس نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کردیا۔ سینیٹ کااجلاس قائم مقام چیئرمین سیدال خان ناصرکی زیر صدارت ہوا۔ شہدا کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی صحت جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈرسینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایک طرف خون بہہ رہا تھا جبکہ دوسری طرف شہر میں گانے اور ڈھول بج رہے تھے ۔ یہ بے حسی کی انتہا ہے اور ایسے اقدامات دہشت گردوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر اجتماعی نماز جنازہ ہوتی تو پورے پاکستان میں اتحاد کا پیغام جاتا۔ یہ پاکستان کے بچے سجدے میں شہید ہوئے ۔

یہ شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اہل سنت ہسپتالوں میں خون دے رہے تھے ۔ یہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے ، اس کا جواب کون دے گا- اجلاس میں سابق وزیراعظم، سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بلایا جائے ۔اس میں واضع ہو جائے گا کہ کس نے ٹی ٹی پی کو واپس لانے میں کردار ادا کیا۔ سینیٹر پرویز رشیدنے کہا کہ ہم سب شہدا کے دکھ میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی جنگ میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے قربانیاں دیں۔ آج سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کرنی چاہیے ۔ اگر تقریر میں زیادہ وقت حکومت پر تنقید میں لگائیں تو یہ دہشت گردوں کی حمایت ہوگی۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ اتنے ہم ایشو پر بحث ہو رہی ہے اور ایوان میں ایک بھی وزیر نہیں ، اگر ان کو ایوان ایسے ہی چلانا ہی تو یہ صورتحال قابل قبول نہیں ۔

اس خطے سے القاعدہ کو پاکستان آرمی نے نکالا ہے پاکستان کی ریاست کو جواب دینا پڑے گا یہ نہیں ہو سکتا آپ حملہ کرتے رہیں اور ہم ر ودھو کر چپ کر کے گھر چلے جائیں، انہوں نے کہاکہ کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ، عمران خان نے تحریک طالبان کو پاکستان میں جگہ دی سینیٹر شیری رحمان کے ریمارکس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا ، اپوزیشن کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے ۔اس موقع پر اپوزیشن نے شیری رحمان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تاہم سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ میں ہرگز معافی نہیں مانگوں گی۔ آپ اپنی تقریر میں جواب دے دیجئے گا ۔ سینیٹر عطا الرحمن نے کہاکہ جب بھی کوئی اس طرح کا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت آرام سے کہہ دیتی ہے کہ یہ ہمسایہ ملک سے ہوا ہے ، جب روس افغانستان میں حملہ آور ہو رہا تھا تو ہم نے بطور قوم ان کا ساتھ دیا ۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اپوزیشن نے فیشن بنا لیا ہے کہ ریاستی اداروں پر تنقید کرنی ہے ،ہمیں تھوڑا سا اپنے دامن میں بھی جھانکنا چاہیے ۔یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ، اس پر ایک قوم بن کر سوچنا ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ یہ بہت بڑی جنگ ہے ،یہ افغان جنگ کی باقیات ہے جس سے آسانی سے چھٹکارا نہیں ملے گا ۔بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ ملک میں دہشت گردی بہت ہو گئی اور برداشت ختم ہو گئی، اب ان کے خلاف بھر پور کارروائی کی جائے اور ملک سے دہشت گردوں کا قلعہ قمع کیا جائے ۔آپ ہمیں دشمن سمجھنا چھوڑ دیں ہم ملک کی سلامتی کے لیے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت شہدا کے لیے مالی امداد دینے کا اعلان کرے ۔سینیٹر عابد شیر علی نے کہاکہ ا سلام آباد میں پیش آنے والے واقعہ پر سارا پاکستان غم میں ہے اس واقعہ پر سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں