افغانستان میں2050پاکستانی طلبہ ،1100واپس آ چکے
افغانستان سے دہشتگردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے :وزیرپارلیمانی امور کمیٹیوں کی رپورٹس پیش ، کورم پورا نہ ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس ملتوی کرنا پڑا
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،اے پی پی)وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹرطارق فضل نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،افغانستان میں زیر تعلیم طلبہ کی کل تعداد 2050 ہے ،ان میں سے اکثریت کابل اور جلال آباد میں میڈیکل کے شعبہ میں زیر تعلیم ہے ۔ سرحدی راستے کی بندش کے بعد 11 سو سے زائد پاکستانی وطن واپس آئے ہیں،اس وقت 947 پاکستانی طالب علم افغانستان میں موجود ہیں اور ہمارا سفارتخانہ ان سے رابطے میں ہے ،افغان حکومت نہ تو ہمارے طلبا کی حفاظت کی ضمانت دے رہی اور نہ ہی سرحد پر تحفظ فراہم کر رہی ہے ، قومی اسمبلی میں پاک افغان سرحد کی بندش سے طالب علموں کو پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل نے بتایا کہ اکتوبر 2025 میں دراندازی اور پاکستانی چوکیوں پر حملے کے بعد سرحد بند کی گئی،اس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کی۔
مذاکرات بھی ہوئے تاہم طالبان حکومت یہ یقین دہانی کرانے پر تیار نہیں تھی کہ اپنی سرحد سے دراندازی روکیں۔انہوں نے بتایا کہ 11 سو پاکستانی طالبعلم فضائی راستے سے واپس آگئے ہیں باقی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان فضائی راستے سے آمد ورفت جاری ہے ۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں قانون سازی کے دوران کارروائی اور طریقہ کار کے قواعد 2007 کے قواعد 70،73 اور 250 میں ترامیم منظور کرلیں۔ قومی اسمبلی میں تجارتی تنظیمات(تیسری ترمیم)بل 2026 سمیت کئی بلز پیش کردئیے گئے ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پرکچھ دیر کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔ اپوزیشن رکن جنید اکبر نے کورم کی نشاندہی کی۔گنتی پر کورم پورا نہ نکلا ۔بعدازاں کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع کی گئی اور ایجنڈے کو نمٹایا گیا۔ قومی اسمبلی میں مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس بھی پیش کردی گئیں۔ اسمبلی نے بین الاقوامی امتحانی بورڈ کا بل 2025 مشترکہ اجلاس میں زیر غور لانے کی تحریک منظور کرلی۔