سینیٹ کابینہ کمیٹی ورچوئل اثاثہ جات مجوزہ بل پر ڈیڈ لاک برقرار:اہم فون کال کے بعد ان کیمرہ اجلاس،پھر بھی حتمی فیصلہ ہوسکا

سینیٹ  کابینہ  کمیٹی      ورچوئل    اثاثہ  جات  مجوزہ   بل   پر  ڈیڈ لاک  برقرار:اہم  فون  کال   کے   بعد   ان  کیمرہ  اجلاس،پھر  بھی حتمی  فیصلہ   ہوسکا

ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنیوالوں کی تعداد 4کروڑ ہوگئی:بلال بن ثاقب،انہیں ٹیکس نیٹ میں لائیں گے یا نہیں ؟مانڈوی والا سعدیہ عباسی ، ایمل ولی نے بھی بل اور ریگولیٹری فریم ورک پر تحفظات کا اظہار کیا،ابھی مزید سوالات موجود ہیں:چیئرمین

اسلام آباد ( حریم جدون ) ورچوئل اثاثوں کے حوالے سے بل پر سینیٹ کی کابینہ کمیٹی میں دوسرے دن بھی ڈیڈلاک برقرار، چیئرمین کمیٹی کوایک فون کال آئی،اجلاس میں پندرہ منٹ کاوقفہ ہوا، اس دوران اِن کیمرہ مشاورت ہوتی رہی مگر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہو سکا اورورچوئل اثاثوں سے متعلق مجوزہ بل پر سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس بغیر کسی حتمی فیصلے کے ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے علاوہ پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے بھی شرکت کی، جبکہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سعدیہ عباسی اور ایمل ولی نے بل اور ریگولیٹری فریم ورک پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت سوالات اٹھائے ۔ بلال بن ثاقب نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کا مقصد کرپٹو کرنسی کو فروغ دینا نہیں بلکہ اسے ریگولیٹ کرنا ہے ۔

ملک میں ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً چار کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔ اس پر سلیم مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ چار کروڑ افراد ٹیکس نیٹ میں بھی لائے جائیں گے یا نہیں ؟ اور ان کو کس طرح سے ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا ؟ جس پر وزارت ِ خزانہ کے پاس کوئی تسلی بخش جواب موجود نہ تھا ۔ بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ہم پاکستان میں سٹیبل کوائن بھی لانے پر کام کر رہے ہیں ۔ اجلاس کے دوران اس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی جب چیئرمین کابینہ کمیٹی رانا محمود الحسن کو ایک اہم فون کال موصول ہوئی، جس کے بعد وہ کال سُنتے ہی کمیٹی روم سے باہر چلے گئے ۔ واپس آنے پر چیئرمین کمیٹی نے اجلاس میں پندرہ منٹ کا وقفہ کر دیا اوراس دوران وزیر خزانہ، بلال بن ثاقب اور تمام سینیٹرز سے چیمبر میں ملاقات کرنے کو کہا ۔ جہاں ورچوئل اثاثوں کے بل پر ان کیمرہ مشاورت کی گئی۔وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا اور چیئرمین کمیٹی نے اعلان کیا کہ بل پر مزید سوالات موجود ہیں۔ ابھی اس پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے ۔ جس کے بعد سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس ایک بار پھر بغیر کسی فیصلے کے ملتوی کر دیا گیا۔یاد رہے اس سے ایک روز قبل بھی اجلاس بل پر بغیر کسی فیصلے کے ملتوی ہوا تھا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں