فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں،کیسز کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا،اپوزیشن لیڈر کا بیان جھوٹ:اعلیٰ سکیورٹی ذرائع

فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں،کیسز کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا،اپوزیشن لیڈر کا بیان جھوٹ:اعلیٰ سکیورٹی ذرائع

نیشنل ایکشن پلان پختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانے کی کنجی ،عمل کرنا ہوگا ،فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کیساتھ اندرونی عناصر ملوث،دہشتگردی کا خاتمہ گڈ گورننس سے مشروط ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ،تعلق آئین اور ریاست سے ہے ،فوج کی کسی سے دوستی ہے نہ دشمنی ،فوج اورعوام کے رشتے کو کوئی کمزور نہیں کر سکتا:سکیورٹی حکام کی میڈیا کیساتھ گفتگو

 لاہور، اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی، خصوصی نیوز رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)مسلح افواج نے دہشت گردی کے خاتمے کو گڈ گورننس کے قیام سے مشروط قرار دے دیا۔ اعلیٰ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج سے متعلق حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے ۔ کیسز اور ان سے جڑے تمام معاملات کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے ۔ بات چیت تمام سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے ، سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں۔لاہور میں سکیورٹی حکام اور میڈیا نمائندگان کے درمیان ایک اہم نشست ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، بیرونی مداخلت اور دہشت گردی کے خلاف جاری مہم پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے گفتگو کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے ۔ اس میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے ۔

پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے ، حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے ملزم کو دہشت گردی کی تربیت افغانستان میں دی گئی۔ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا، دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم کے بجائے اتحاد ناگزیر ہے ۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے ۔ تین سال قبل ڈیڑھ کروڑ سے دو کروڑ لٹر ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے اورسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا تھا۔ گڈ گورننس ہی دہشت گردی کے خاتمے کا واحد مو ثر ذریعہ ہے ۔ احساس محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام پہچان چکے ہیں۔انہوں نے کہا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے اور حالیہ اجلاس خوش آئند ہیں۔ جس طرح معرکہ حق میں متحد ہو کر بھارت کو شکست دی، اسی طرح دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے ۔ تعلیمی اداروں کے دوروں سے واضح ہے کہ عوام، خصوصاً نوجوان نسل، پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے ۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کے پاس دہشت گردی کے خاتمے کی اہلیت اور صلاحیت دونوں موجود ہیں اور وہ پرعزم ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ترجیحات اپنی جگہ، تاہم صوبے وفاق کے ساتھ مل کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے یکسو ہیں اور خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اس عمل میں وفاق کے ساتھ ہے کیونکہ دہشت گردی کا خاتمہ ملک کی بقا کے لیے ضروری ہے ۔ دہشت گردی سے متعلق ثبوت مانگنے والے اپنے مالی مفادات کے تحت قومی بیانیے کو کنفیوژ کر رہے ہیں حالانکہ سب جانتے ہیں کہ دہشت گرد کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے دہشت گردی کے سدباب، افغانستان سے دراندازی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے ساتھ بعض اندرونی عناصر بھی ملوث ہیں اور تمام اندرونی و بیرونی عناصر پر نظر رکھی جا رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی نیشنل ایکشن پلان پر مبنی ہے جسے تمام سیاسی قوتوں کی تائید حاصل ہے ۔ 2014 میں طے کیا گیا تھا کہ اتحاد کے ساتھ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا اور آج بھی انہی 14 نکات پر عمل کیا جا رہا ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت ریاست کی اہم فریق ہے اور اسے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا ہوگا کیونکہ یہ کسی ایک کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ۔ وفاق اور صوبوں کو مل کر دہشت گردی کو کچلنا اور امن و امان قائم کرنا ہے ۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ فورسز کے ساتھ مل کر کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور دہشت گردوں کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے ۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلح افواج کا تعلق کسی جماعت یا قیادت سے نہیں بلکہ آئین پاکستان اور ریاست سے ہے ۔ فوج کی کسی سیاسی جماعت سے نہ دوستی ہے نہ دشمنی، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ فوج کسی قیادت کو ٹارگٹ کر رہی ہے تو یہ غلط فہمی ہے ۔ جو کچھ کیا جاتا ہے ملک کے مفاد میں کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا جنگ میں ایک فریق کو گرنا پڑتا ہے ، ان شاء اللہ دشمن کو اس کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے اور سرخرو ہوں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں