بغیرریگولیشن سوشل میڈیااستعمال بچوں کیلئے خطرناک :ہائیکورٹ

بغیرریگولیشن سوشل میڈیااستعمال بچوں کیلئے خطرناک :ہائیکورٹ

بچوں کو سوشل میڈیا کے برے اثرات سے بچانے کے اقدامات پر وفاق سے جواب طلب کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق دنیا بھر میں قوانین بنے ہیں:درخواست گزار

اسلام آباد(رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال میں نقصانات کے اثرات کے تحفظ کے لیے اقدامات سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی،جسٹس ارباب محمد طاہر کی عدالت نے کم عمر بچے اکبر خان شنواری کی والد کے ذریعے دائر درخواست پر سماعت کا دو صفحات پرمشتمل تحریری حکم جاری کردیا،جس میں عدالت نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی ، پی ٹی اے اور پیمرا کو پیرا وائز کمنٹس جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ سوشل میڈیا ریگولیشن ، مانیٹرنگ اور پیکا کی حالیہ ترامیم پر عمل درآمد کی رپورٹ دیں۔

بتایا جائے کہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے حوالے سے کیا ریگولیٹری فریم ورک بنایا ہے اور کم عمر بچوں کی (سوشل میڈیا استعمال)عمر کے جائزے کے میکنزم کے حوالے سے اقدامات سے بھی آگاہ کریں، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آئینی مینڈیٹ کے حوالے سے بھی آگاہ کریں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کاکہناہے کہ بچوں کو آن لائن نقصانات کے اثرات سے تحفظ فراہم کرنا اہمیت کا حامل ہے ،بغیر ریگولیشن کے سوشل میڈیا کا استعمال بچوں کے لئے خطرناک ہے ،بغیر ریگولیشن بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے ذہنی مرض اور پرائیویسی کی خلاف ورزی کے ایشوز بھی ہیں،حکمنامہ کے مطابق درخواست گزار نے کہا کہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال متعلق دنیا بھر میں قوانین بنے ہیں،عدالت نے 3 مارچ تک وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں