عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ:سپریم کورٹ کے حکم پر عملدر آمد مکمل اپوزیشن اتحاد کے تیسرے روز بھی دھرنے جاری،شاہراہ دستور بند

عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ:سپریم کورٹ کے حکم پر عملدر آمد مکمل اپوزیشن اتحاد کے تیسرے روز بھی دھرنے جاری،شاہراہ دستور بند

ماہر ڈاکٹرزنے ایک گھنٹہ تک طبی معائنہ کیا ،آنکھ کی تکلیف میں بہتری آئی :ذرائع ، حکومتی دعوت کے باوجودپی ٹی آئی کا کوئی رہنما نہ آیا ، اب تک کے علاج ،صحت پررپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال بانی پی ٹی آئی کی الشفا آئی ہسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا،جیل میں کوئی علاج نہ کیاجائے :تحریک تحفظ آئینِ پاکستان،فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر طبی معائنہ مسترد کرتے ہیں:پی ٹی آئی

راولپنڈی (خبرنگار،مانیٹرنگ ڈیسک)بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا جبکہ تحریک انصاف نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ مسترد کردیا اورحکومتی دعوت کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب کوئی بھی رہنما چیک اپ میں شرکت کیلئے نہیں آیا ،ذرائع کے مطابق عمران خان کی آنکھ کی تکلیف میں نمایاں کمی آئی ہے اور علاج سے مکمل صحت یابی ہوجائے گی ، جیل میں اب تک ہوئے علاج اور صحت سے متعلق ابتدائی رپورٹ بھی ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھجوا دی ۔عمران خان کے طبی معائنہ سے سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرآمد مکمل ہوگیا ،حکم میں 16فروری تک طبی معائنے کی رپورٹ پیش کرنے اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر با ت کرانے کا کہاگیاتھا۔ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری ہیں جبکہ اسلام آباد کی مصروف ترین شاہراہ دستور بھی مکمل بند ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل ساجد بیگ نے بتایاکہ ہفتہ کی دوپہر اڑھائی بجے مختلف ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم ضروری طبی سامان کے ہمراہ اڈیالہ جیل پہنچی، میڈیکل ٹیم پی ٹی آئی کی قیادت کی نمائندگی کیلئے جیل میں منتظر رہی تاہم حکومت کی دعوت اور کافی انتظار کے باوجود تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما بانی کے چیک اپ میں شرکت کیلئے جیل نہیں پہنچا۔

جس پر جیل حکام کی موجودگی میں میڈیکل ٹیم نے بانی کا طبی معائنہ کیا ،میڈیکل بورڈ کی نگرانی میں آنکھوں کا تفصیلی چیک اپ ہوا ۔ذرائع نے آنکھ کے طبی معائنے کی تفصیلات کے بارے میں بتایاکہ عمران خان کی آنکھ کی تکلیف میں نمایاں کمی آئی ہے ، اُن کی آنکھ کے علاج سے مزید بہتری کی امید ہے ۔ ڈاکٹرز کی ٹیم میں ماہرین امراض چشم شامل تھے ، طبی معائنے کے بعد رپورٹ متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی ہے ۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق سکیورٹی کے سخت انتظامات میں طبی معائنہ کیا گیا، ٹیکنیشن بھی 5رکنی ڈاکٹروں کی ٹیم کا حصہ تھے ،ڈاکٹروں نے تقریبا ایک گھنٹہ تک اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا،میڈیکل ٹیم میں ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف بھی شامل تھے ۔بانی پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں علاج اور صحت سے متعلق ابتدائی رپورٹ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے ۔ کب کب کس ڈاکٹر نے چیک کیا اور تمام تر تفصیلات رپورٹ کا حصہ ہیں ۔ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بھجوائی گئی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے وائٹل سائنز بلڈ پریشر، نبض، ٹمپریچر، شوگر کا مکمل چارٹ بھی شامل کیا گیا ہے ، بانی کی آنکھوں سے متعلق صورتحال بھی رپورٹ میں شامل ہے اسی طرح بانی کی کنسلٹنس رپورٹس اورمیڈیکل سٹاف کی تفصیلات بھی بھجوائی گئیں جبکہ آن ڈیوٹی ڈاکٹرز روزانہ تین مرتبہ بانی کا طبی معائنہ اور وائٹل سائنز کا ریکارڈ باقاعدگی سے مرتب کرتے ہیں۔واضح رہے سپریم کورٹ نے 16 فروری سے قبل عمران خان کے طبی معائنے کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھااوربیٹوں سے ٹیلی فونک رابطہ کرانے کاآرڈر جاری کیاتھا،گزشتہ روز طبی معائنے سے سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد مکمل ہوگیا ۔ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر طبی معائنہ مسترد کرتے ہیں، معائنے کے وقت جیل آنے کا کہنا بنیادی مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ، حساس طبی معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق بانی کی فیملی کا بنتا ہے ، معاملہ پارٹی قیادت کی موجودگی یاعدم موجودگی کانہیں تھا۔

فیملی اس وقت تک فیصلہ نہیں کرسکتی جب تک ذاتی معالجین موجودنہ ہوں، پارٹی قیادت کو مدعو کرنے کا کوئی جواز نہیں، ذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی تک رسائی دی جائے ، بانی کی فیملی سے فوری ملاقات کرائی جائے ۔دوسری طرف عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد کا تین روز سے احتجاج جاری ہے ۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری ہیں جبکہ اسلام آباد کی مصروف ترین شاہراہ دستور بھی مکمل بند ہے ۔ تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی الشفا آئی ہسپتال منتقلی تک دھرنا جاری رہے گا۔ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں بانی پی ٹی آئی کا کوئی علاج شروع نہ کیا جائے ۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہاہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اپنے مطالبات پر پوری ثابت قدمی کے ساتھ قائم ہے ۔ اسلام آباد انتظامیہ اس وقت جس طرزِ عمل کا مظاہرہ کر رہی ہے وہ ایک جمہوری دارالحکومت کے شایانِ شان نہیں بلکہ یزیدی لشکر کی یاد تازہ کر رہا ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر موجود دھرنا مظاہرین تک کھانا، پانی اور ادویات کی رسائی تک روک دی گئی ہے ، یہ اقدام نہ صرف غیر انسانی بلکہ بنیادی جمہوری و آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر پارلیمنٹ ہاؤس میں موجودہیں اوراپوزیشن نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں