عمران خان کی آنکھ میں بہتری : میڈیکل رپورٹ آگئی، بینائی عینک کیساتھ 70 فیصد : اعظم نذیر، نظر جوانوں جیسی : طلال، جیل میں رہائشی حالات پر خدشات دور ہوچکے: سپریم کورٹ
ادویات تجویز ،میڈیکل بورڈ کا مزیدٹیسٹ کرانے کا مشورہ ،بانی کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف کا علاج میں شریک کرنے کا مطالبہ، بیرون ملک جانے کی خبریں جھوٹی :خواجہ آصف علیمہ نے میڈیکل رپورٹ مسترد کردی ،اپوزیشن اتحاد کا دھرنے جاری رکھنے کا اعلان ،پارلیمنٹ دھرنے میں ارکان کی نعرے باز ی ،بانی سے ملاقات تک احتجاج ہوگا:پی ٹی آئی رہنما
اسلام آباد (کورٹ رپورٹر،خصوصی نیوزرپورٹر ،اپنے سٹاف رپورٹر سے )بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تازہ میڈیکل رپورٹ منظر عام پر آگئی ،جس کے مطابق ان کی آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی ہے ۔حکومتی وزرا کا کہناہے کہ عمران خان کی بینائی عینک کے ساتھ 70فیصد ہے اور نظر جوانوں جیسی ہے ۔سپریم کورٹ نے عمران خان کی جیل میں موجودہ صورتحال سے متعلق درخواست نمٹا دی اور 12 فروری کی سماعت کا 7 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کردیا،سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ باریک بینی سے جائزہ لینے سے فرینڈ آف کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مجموعی تصویر ہم آہنگ نظر آئی، جیل میں درخواست گزار کے حالات میں فی الحال کوئی منفی یا تشویشناک پہلو سامنے نہیں آیا۔ روزمرہ معمولات اور خوراک کے انتظامات تسلی بخش قرار پائے ،رہائشی حالات پر خدشات دور ہوچکے۔ اپوزیشن اتحاد نے مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پمز کا دورہ کیا جہاں معالجین نے انہیں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔
بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر تقریباً 25 منٹ طویل بریفنگ دی گئی جس پر دونوں معالجین نے اطمینان کا اظہار کیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا معائنہ 15 فروری کو پروفیسرز پر مشتمل ماہرِ امراضِ چشم کے میڈیکل بورڈ نے کیا۔عینک کے استعمال سے دائیں آنکھ کی بینائی بہتر ہو کر 6/9 پارشل اور بائیں آنکھ کی بینائی مکمل طور پر 6/6 ہو گئی ہے ،مجموعی طور پر بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل ہو چکی ہے جو اس مرحلے پر تسلی بخش ہے ۔ دائیں آنکھ کے معائنے میں خون کے بہاؤ اور پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے تاہم سوجن میں واضح کمی آئی اور آنکھ کی موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 ہو گئی جو بہتری کی علامت ہے ۔ میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لئے نیواناک اور سسٹین الٹرا آئی ڈراپس جبکہ صرف دائیں آنکھ کے لئے کوسوپٹ تجویز کی ہے ۔ ماہرین نے اینٹی وی ای جی ایف علاج کی تکمیل کے بعد او سی ٹی اینجیو گرافی اور ایف ایف اے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ بھی دیا ۔
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے حکومتی ڈاکٹرز سے معائنہ اور رپورٹ مسترد کردی ،انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہمارا موقف واضح اور مسلسل رہا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں داخل کیا جائے تاکہ مناسب معائنہ اور علاج ہو سکے ، کوئی بھی ٹیسٹ اور علاج صرف اس صورت میں ہمارے خاندان کیلئے قابل قبول ہے جب ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر نوشیروان برکی خاندان کی نمائندگی کرتے ہوئے موجود اور نگرانی میں ہوں۔شوکت خانم ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف کا کہنا ہے کہ عمران خان کا علاج کرنے والے معالجین ان کی بینائی میں نمایاں بہتری کا دعویٰ کر رہے ہیں مگر میں تصدیق کرنے سے قاصر ہوں۔ایکس پر اپنے بیان میں ان کاکہناتھاکہ عمران خان کا علاج کرنیوالے ڈاکٹرز سے 40 منٹ تک گفتگو ہوئی ، معالجین کے مطابق عمران خان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے ،میں اس کی تصدیق اس لئے نہیں کرسکتا کہ نہ میں علاج میں شامل رہا نہ ہی مریض سے کوئی بات ہوئی ۔
ڈاکٹر عاصم یوسف نے حکام سے اپیل کی کہ انہیں یا اُن کے ساتھی ڈاکٹر فیصل سلطان یا دونوں کو عمران خان سے ملاقات اور اُن کے علاج میں شرکت کی اجازت دی جائے جبکہ آئندہ تمام طبی نگہداشت شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کی جائے ۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کی ایک آنکھ کی بینائی عینک لگا کر 70فیصد ہے اور ان کی دوسری آنکھ کی بینائی 6/6ہے ۔شیخوپورہ میں تقریب سے خطاب میں ان کاکہناتھاکہ طبی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی کے جاری علاج پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی آنکھ کی سوجن میں واضح کمی ہوئی اور بینائی میں بہتری آ رہی ہے ۔وزیردفاع خواجہ آصف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے علاج کیلئے ملک سے باہر جانے کے مطالبے کی تمام خبروں کی تردید کردی اورسوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے کہ انہیں علاج کے لئے باہر بھیجا جائے اور نہ ہی حکومت ایسا کچھ سوچ رہی ہے ، یہ سب اخباری باتیں ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی نظر جوانوں کی طرح ہے وہ دیکھ اور پڑھ رہے ہیں۔پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہااپوزیشن نہیں چاہتی کہ عمران خان کی رپورٹ اچھی آئے ۔ دھرنے کے شرکا کو مختلف اقسام کے پراٹھے پہنچائے گئے ، علامہ راجہ ناصر عباس اس کی تصدیق کرلیں ورنہ ہمارے پاس سارے شواہد ہیں،جو اپوزیشن احتجاج میں پراٹھے کھانے کا سچ نہیں بول سکتی وہ اپنے لیڈر کی صحت پر سچ کیوں بولے گی۔دھرنے میں ایسے لوگوں کو بھی پہنچایا گیا جو پارلیمنٹیرینز نہیں تھے جبکہ مسلح افراد کو پارلیمنٹ لاجز تک پہنچایا گیا جہاں فیملیز موجود تھیں، اس طرح کے اقدامات سے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور جیل میں رہائشی حالات سے متعلق کیس میں 12 فروری کے سات صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں قرار دیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد یہ درخواستیں فی الحال غیر موثر ہو چکی ہیں،23 اور 24 اگست 2023 کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے ۔
درخواست گزار مبینہ بے قاعدگیوں یا غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنی شکایات ہائی کورٹ میں زیر سماعت اپیل میں اٹھانے کا حق رکھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ کے سابقہ احکامات کی روشنی میں ان درخواستوں کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد انہیں دوبارہ مقرر کیا جائے گا۔ عدالت نے عمران خان کے روزمرہ معمولات، خوراک کے انتظامات اور قید خانے کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا جبکہ باقاعدہ بنیادی طبی معائنوں کی فراہمی اور جیل احاطے میں سکیورٹی کو بھی محفوظ قرار دیا گیا تاہم فرینڈ آف دی کورٹ کی رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کی بگڑتی ہوئی حالت پر تشویش ظاہر کی گئی تھی جس پر عدالتی حکم کے مطابق چیک اپ اور علاج جاری ہے جبکہ بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کا حکم بھی پوراکردیاگیاہے ۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجموعی طور پر جیل میں درخواست گزار کے حالات اطمینان بخش ہیں اور اس مرحلے پر کسی ہنگامی عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ۔
واضح رہے کہ عدالت کو عمران خان کے چیک اپ اور علاج کے حکم کی تعمیل سے آگاہ کرنے کیلئے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان خود سپریم کورٹ پہنچے اورچیف جسٹس کو بریفنگ دی ۔دوسری طرف اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان)نے مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیاہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہماری مشاورت جاری ہے کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا،ہم نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اپوزیشن اتحاد کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے باہر پھر سے دھرنا شروع کر دیا گیا جس میں پارلیمنٹیرنز نے نعرے بازی کی۔اس سے قبل مشاورتی اجلاس میں ارکان نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ارکان نے مطالبہ کیا کہ پہلے اس بات کا تعین کرلیا جائے کہ پارٹی کو علیمہ خان، بانی پی ٹی آئی کی فیملی چلائے گی یا پھر سیاسی کمیٹی۔ پارلیمنٹ ہائوس اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے دھرنے چار روز سے جاری ہیں ۔لاہور میں گزشتہ روز جی پی او چوک میں دھرنا دے کر احتجاج کیا گیا جس کی وجہ سے مال روڈ سمیت ملحقہ شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں۔دھرنوں کے باعث خیبرپختونخوا سے پنجاب آنے والے تمام داخلی و خارجی راستے چوتھے روز بھی بند رہے ۔
مشاورتی اجلاس کے بعد جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر ارکان نے کہا ہم تین دن سے دھرنے پر بیٹھے ہیں اس کے باوجود بھی سوشل میڈیا پر ہمارے ہی خلاف مہم اور بیان بازی جاری ہے ۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا جب تک ہمارے کسی عہدیدار کی ملاقات نہیں ہوجاتی، دھرنا جاری رکھا جانا چاہئے ۔اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہمارا دھرنا جاری ہے جبکہ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے کوئی پارٹی عہدیدار نہیں ملتا ہم احتجاج جاری رکھیں گے ۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی میں اختلافات کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ تحریک انصاف کے تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اہم انکشاف کیا کہ اتحاد کے بڑے فیصلے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا ہم نے ابھی تک کارکنوں کو کوئی لائحہ عمل نہیں دیا ، ہمارا لائحہ عمل ممبران اسمبلی کیلئے تھا جتنے بھی کارکن نکلے ہوئے ہیں وہ اپنی مدد آپ کے تحت نکلے ہیں۔ انہوں ے کہا کل جو خودساختہ رپورٹ جاری کی اس میں لکھا ہے کہ عمران خان کی آنکھ ریکور ہورہی ہے اس کا مطلب خراب تھی اور خراب کیوں ہوئی یہ سوال ہمیشہ رہے گا۔