سپریم کورٹ میں پھانسی اور عمر قید کے کیسز آئندہ 45 روز میں نمٹانے کا ہدف مقرر

سپریم کورٹ میں پھانسی اور عمر قید کے کیسز آئندہ 45 روز میں نمٹانے کا ہدف مقرر

9تا14فروری سزائے موت ،عمر قید کے 354مقدمات نمٹائے گئے ،131 نئے دائر ،جیل پٹیشنز کی دائرگی سے فیصلے تک واضح ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ چیف جسٹس کی زیرقیادت زیرالتوا فوجداری مقدمات کی تعداد 19ہزار 549سے کم ہوکر 12ہزار 705رہ گئی،جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی رہے گی:اعلامیہ

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر )سپریم کورٹ میں پھانسی اور عمرقید کے کیسز آئندہ 45 روز میں نمٹانے کا ہدف مقرر کردیا گیا ۔ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس یحیی آفریدی کی قیادت میں اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔ 9 سے 14 فروری 2026 کے دوران سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے ، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے ۔

ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فیصد زیادہ رہی، فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026 تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔اعلامیہ کے مطابق مخصوص بینچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کیلئے سرگرم ہیں۔چیف جسٹس نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔جیل پٹیشنز کی دائرگی سے فیصلے تک واضح اور قابلِ پیش گوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اعلامیہ کے مطابق فوجداری مقدمات میں جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں