شہباز شریف، آسٹرین چانسلر کا تعاون بڑھانے کا عزم، ایم او یوز کو حتمی شکل دینے پر اتفاق
امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور،کرسچیئن سٹاکرکو دورہ پاکستان کی دعوت زراعت،تجارت،معدنیات،سیاحت، ٹیکسٹائل، توانائی میں مواقع، سرمایہ کار آئیں،میزبانی کرینگے :وزیر اعظم ، لندن پہنچ گئے
اسلام آباد،ویانا(نامہ نگار، نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف اور آسٹریا کے چانسلر کرسچیئن سٹاکر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، صحت اور ا نسانی وسائل کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی و کاروباری شعبوں کی سطح پر موجودہ پلیٹ فارم کو وسعت دینے اور زیر غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا ہے ۔ شہباز شریف نے ویانا میں تاریخی ہوفبرگ پیلس میں وفاقی چانسلری میں جمہوریہ آسٹریا کے وفاقی چانسلر کرسچیئن سٹاکر سے ملاقات کی۔وفاقی چانسلری پہنچنے پر وزیراعظم کا چانسلر سٹاکر نے استقبال کیا، انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے۔
بعد ازاں دونوں رہنماں کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ مذاکرات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اﷲ تارڑ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ بھی شریک تھیں۔دونوں رہنمائوں نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اقتصادی تعاون، تجارت و سرمایہ کاری، سیاحت، مہمان نوازی، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، انسانی وسائل کی ترقی اور افرادی قوت سمیت مختلف شعبوں میں قریبی تعاون کو فروغ دیں گے ۔ اس سلسلے میں دونوں فریقین نے زیرِ غور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا۔ملاقات میں علاقائی اور عالمی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے ، تنازعات کے پرامن حل، پائیدار ترقی، ماحولیاتی اقدامات اور انسانی حقوق کے تحفظ و فروغ کے ضمن میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار پر اتفاق کیا گیا۔
دونوں رہنمائوں نے کثیرالجہتی نظام سے اپنی مشترکہ وابستگی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کی حمایت کو سراہتے ہوئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیرِ اعظم اور آسٹریا کے وفاقی چانسلر نے قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، صنعتی پیداوار و تعمیرات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، آلات جراحی، چمڑے اور کھیلوں کے سامان، صحت، سیاحت و مہمان نوازی اور خوراک و زرعی صنعتوں سے وابستہ آسٹریا اور پاکستان کی سرکردہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسروں کے فورم کی مشترکہ صدارت بھی کی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان حکومتی سطح پر (جی ٹو جی)، حکومت و کاروباری شعبے کے درمیان (جی ٹو بی) اور کاروباری شعبوں کے درمیان (بی ٹو بی) روابط کو موجودہ پلیٹ فارمز کے موثر استعمال کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور کمپنیوں کو رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی دعوت دی۔وزیرِ اعظم نے دورے کے دوران بامعنی اور نتیجہ خیز ملاقاتوں پر وفاقی چانسلر کا شکریہ ادا کیا جو دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت فراہم کریں گی۔ انہوں نے وفاقی چانسلر کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔شہباز شریف نے پاکستان آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل و لیدر، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا آسٹریا کے سرمایہ کار پاکستان آئیں، حکومت ان کی میزبانی کرے گی، دونوں ممالک میں تعاون اور دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ شہبازشریف نے کہا آسٹرین کمپنیاں دہائیوں سے پاکستان میں کام کرتی رہی ہیں لیکن ماضی قریب میں بوجوہ اس میں کمی آئی، قابل تجدید توانائی، معدنیات و کان کنی اور سیاحت کے شعبے میں کئی آسٹرین کمپنیاں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے چانسلر کرسچیئن سٹاکر کے ساتھ دوطرفہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات کو بہت مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں طے ہونے والے امور کو آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں پر محیط تاریخی حقائق پر مبنی ہیں، قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں آسٹریا کا تعاون قابل تعریف ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے ، ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے ، حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں، صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کے لئے کوشاں ہیں، نوجوانوں کی ترقی کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیرقانونی تارکین وطن کے مسئلے پر یورپی پارٹنرز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا اہم انحصار زراعت پر ہے ، 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے ، زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی اور گندم، مکئی اور گنے سمیت اہم فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے کاوشیں جاری ہیں، زرعی شعبے میں ویلیو ایڈیشن کے لئے آسٹریا کے تعاون کا خیرمقدم کریں گے کیونکہ اس شعبے میں آسٹریا کا وسیع تجربہ اور مہارت ہے ۔ انہوں نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں بھی دوطرفہ تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے ۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں آسٹریا کی بزنس کمیونٹی کو سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاحت، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ،ٹیکسٹائل، لیدر، ہائیڈرو پاور، سولر، بائیو ماس، سمارٹ سلوشنز، گرڈ ماڈرنائزیشن، انڈسٹریل آٹومیشن، مشینری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع ہیں، معاشی شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے خواہاں ہیں، اپریل میں پاکستان ای بزنس فورم کا اسلام آباد میں انعقاد ہوگا۔
وزیراعظم نے آسٹرین سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ حکومت کی دعوت پر پاکستان آئیں، ہمارے مہمان بنیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیں۔ قبل ازیں اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے فورم کا انعقاد اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز ہے ، اپنے محل وقوع اور معاشی مواقع کی وجہ سے پاکستان اہم مارکیٹ ہے ، معاشی استحکام اور ترقی کے لئے اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ فورم میں پاکستانی اور آسٹرین کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف ویانا سے لندن پہنچ گئے ، طیارے نے لوٹن ایئرپورٹ پر لینڈ کیا،وزیراعظم دو روز برطانیہ میں قیام کے بعد امریکا روانہ ہونگے ۔