حکومت ،پی پی میں ہم آہنگی کا فقدان،قانون سازی سست روی کاشکار

حکومت ،پی پی میں ہم آہنگی کا فقدان،قانون سازی سست روی کاشکار

پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے حکومتی بلز پہلے پارٹی کی کمیٹی میں جائینگے پھرساتھ دیا جائیگا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی داخلہ بلوں کو حتمی شکل نہ دے سکی ، 6بلز پھر مؤخر کردیئے

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو ئی بل منظور نہ کرسکی ۔حکومتی بلز سمیت پرائیویٹ ممبرز بلز کمیٹی میں تو لائے جا رہے ہیں مگر کچھ عرصے سے ان پر کوئی نمایاں پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ قانون سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومت کی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے کیونکہ دونوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان نظر آتا ہے ، پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ جتنے بھی حکومتی بلز آئیں گے وہ پہلے پارٹی کی قانون ساز کمیٹی میں جائیں گے اور وہاں سے منظوری کے بعد ہی حکومت کا ساتھ دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے گزشتہ ایک اجلاس میں یہاں تک کہا تھا کہ پارٹی کمیٹی سے منظوری کے بعد بلز میں ایک نکتہ بھی تبدیل نہیں کرنے دیا جائے گا۔

اس صورتحال کے باعث قائمہ کمیٹی میں بلز مسلسل سست روی کا شکار ہیں ،خصوصی طور پر کوڈ آف کرمنل پروسیجر ترمیمی بل 2025 جو کہ ایک حکومتی بل ہے اس پر کافی عرصے سے بحث جاری ہے ، تاہم گزشتہ روز کے اجلاس میں بھی اسے اس بنیاد پر مؤخر کر دیا گیا کہ وفاقی وزیرِ قانون نے اس پر بریفنگ دینا تھی مگر وہ موجود نہیں تھے ، اس بنا پر بل ملتوی کر دیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کی مجموعی صورتحال سے یہ اندازہ ہو رہا تھا کہ اراکین اس موڈ میں بھی نہیں تھے کہ اس بل یا دیگر بلز پر کوئی عملی کام کریں ۔ کمیٹی کے رکن خواجہ اظہار الحسن جو ایم کیو ایم سے تعلق رکھتے ہیں، جب اپنا زیر التوا بل پیش کرنے لگے تو پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ بل چھوڑ دیں کیونکہ آ ج کوئی بھی بل منظور نہیں ہو گا ۔اس کے علاوہ کمیٹی نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری بل، دی پاکستان سٹیزن شپ ترمیمی بل، کرمنل لا ترمیمی بل اور دی گارڈین اینڈ وارڈز ترمیمی بل کو بھی مؤخر کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں