بیرون ملک تعینات افسروں کو والدین کے علاج پر 15ہزار ڈالر اخراجات کی اجازت
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی حکومت نے بیرون ملک تعینات سرکاری افسروں کے والدین کے علاج سے متعلق پالیسی میں ترمیم کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق تعیناتی کے دوران والدین کے علاج پر زیادہ سے زیادہ 15 ہزار امریکی ڈالر تک اخراجات حکومت برداشت کرے گی، جبکہ اس سے زائد رقم متعلقہ افسر ادا کرے گا۔نئی پالیسی کے تحت ایک ہزار امریکی ڈالر تک کے طبی اخراجات متعلقہ سفارت خانے یا دفتر ادا کرے گا۔ ایک ہزار ڈالر سے زیادہ رقم کی صورت میں افسر پہلے ادائیگی کرے گا اور بعد ازاں اخراجات کی واپسی کے لیے کیس وزارت خزانہ کے ذریعے بھجوایا جائے گا۔معمول کے طبی علاج کی سہولت تعیناتی کے مقام پر دستیاب ہوگی، تاہم خصوصی یا غیر معمولی علاج، بشمول سرجری کے اخراجات مقررہ شرائط کے مطابق ادا کیے جائیں گے ۔ ہنگامی صورتحال کے علاوہ ادائیگی کے لیے پیشگی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے ۔حکام کے مطابق ترمیم کا مقصد پالیسی کو واضح اور منظم بنانا ہے ۔