عمران کا علاج بہترین،پی ٹی آئی سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی:علیمہ خان کی وجہ سے میڈیکل چیک اپ 3دن تاخیر کا شکار ہوا:وزیر داخلہ

عمران  کا  علاج  بہترین،پی ٹی آئی سیاسی  فائدہ  اٹھانا  چاہتی:علیمہ  خان  کی  وجہ  سے  میڈیکل  چیک اپ 3دن  تاخیر  کا شکار ہوا:وزیر داخلہ

نیت درست ہوتی تو علاج پر پہلے ہی اتفاق ہو جاتا ،لوگوں کو گمراہ کرنا زیادتی ،پی ٹی آئی بانی کو فراہم سہولیات پر مطمئن،احتجاج اور دھاوا بولنے کا شوق ہے تو نتائج کیلئے بھی تیار رہیں :محسن نقوی عمران کو ورزش ،مطالعہ کی سہولتیں ،ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی،چیا سیڈز ، جوس ، لنچ میں دیسی مرغی،سلاد، اچار،انڈہ، دال: جیل سپرنٹنڈنٹ کی سپریم کورٹ میں رپورٹ

 لاہور،اسلام آباد (سیاسی نمائندہ ،خصوصی رپورٹر ،اے پی پی ،دنیا نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے معاملے پر بھونڈی سیاست کی جا رہی ہے ،علیمہ خان بانی کی بیماری کو کیش کروانا چاہتی تھیں، وہ عمران کے علاج سے منع کردیتی تھیں،انکی وجہ سے میڈیکل چیک اپ تین دن تاخیر کا شکار ہوا، عمران خان کا بہترین علاج ہو رہا ہے ،پی ٹی آئی قیادت بانی کو فراہم علاج معالجہ کی سہولیات سے مطمئن ہے ، کسی کو احتجاج اور دھاوا بولنے کا شوق ہے تو نتائج کیلئے بھی تیار رہے ، تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ،تاہم ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے ۔قذافی سٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب علاج اور دیگر معاملات طے ہو چکے تو پھر سڑ کیں اور پل کیوں بند کیے جا رہے ہیں؟۔وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی صحت، خصوصاً بینائی کے حوالے سے پر اپیگنڈا اور سیاست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن سے رابطہ رکھا اور یقین دہانی کرائی کہ بانی پی ٹی آئی کو آئین اور قانون کے تحت علاج کی ہر ممکن سہولت دی جائے گی۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے ماہر امراض چشم کا نام مانگا، سرکاری و نجی ڈاکٹرز کا انتخاب کیا گیا اور معائنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کیا گیا، ان کے بقول معالجین نے بھی یہی مؤقف اپنایا کہ وہ وہی علاج کر رہے ہیں جو ضروری تھا جبکہ سیاسی رہنماؤں نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بانی کی آنکھ والے مسئلے پر پراپیگنڈا کیا گیا، کہا گیا بانی کی 85فیصد بینائی چلی گئی ہے ، کسی نے کہا بانی کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔محسن نقوی نے بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھا، ہم نے کلیئر کیا تھا کہ کوئی بھی قیدی ہو اسے آئین وقانون کے مطابق علاج دیں گے ، ہم نے کہا تھا ایک اپنے ڈاکٹر کا نام بھی دے دیں، پی ٹی آئی نے کہا ڈاکٹر نہیں خاندان کا ایک فرد شامل کرلیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں چیزیں ہوگئیں تو کہا گیا بانی کو ایک ہفتے کیلئے ہسپتال منتقل کرادیں، ہم نے کہا ڈاکٹرز کی ہدایات پر بانی کو دوہفتے کیلئے ہسپتال منتقل کردیں گے۔

آئی سپیشلسٹ نے ساڑھے 3بجے بانی کاچیک اپ کیا، ہم نے سرکاری اورپرائیویٹ بہترین ڈاکٹروں کا انتخاب کیا، انہوں نے کہا کہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا، سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، ہم نے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ہسپتال لے جاکرانجکشن لگوایا، ہمارے پاس ہزاروں قیدی ہیں، کیا باقی تمام قیدیوں کو یہ سہولیات ملی ہوئی ہیں؟ ،میں تو چاہتا ہوں صحافیوں کو جیل میں ان کومیسرسہولیات دکھاؤں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس طرح کا تماشہ بناکر لوگوں کو گمراہ کرنا غیر مناسب اورزیادتی ہے ، سیاسی انتقام لینا ہو تو سب سے پہلے جیل مینوئل تبدیل ہوتے ، وزیر داخلہ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے جو گفتگو کی اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ اگر تحریک انصاف میں سمجھدار لوگ ہوتے تو جماعت اس صورتحال تک نہ پہنچتی۔ اگر نیت درست ہوتی تو علاج کے معاملے پر پہلے ہی اتفاق ہو جاتا ،سکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ شانگلہ اور باجوڑ سمیت خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات تشویشناک ہیں اور کے پی پولیس دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی قیادت یکسو ہو کر آن بورڈ نہیں ہوگی، دہشت گردی کے خلاف جنگ مکمل طور پر جیتی نہیں جا سکتی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ این آر او سے متعلق کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی اور حکومت تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق نمٹائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت خود کو مظلوم دکھا کر پاکستان میں دہشتگردی کراتا ہے ، بھارت نے دہشتگردی کرانے کیلئے اپنا دفاعی بجٹ 3گنا بڑھایا ،وہ 100فیصد پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث اور بلوچستان میں تباہی کیلئے بڑا پیسہ لگا رہاہے ۔

 اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حاصل سہولیات کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی ہے ، جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل کے ایک علیحدہ کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جو 7 سیلز پر مشتمل ہے اور جس میں 35 قیدیوں کے رہنے کی گنجائش موجود ہے ، کمپاؤنڈ کے سامنے 57 فٹ لمبی اور 14 فٹ چوڑی راہداری بھی موجود ہے ۔ ان کے لیے 35 بائی 37 فٹ کا لان مختص کیا گیا ہے جہاں وہ چہل قدمی ،اخبارات اور کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں، مزید برآں انہیں ورزش کے لیے سائیکلنگ مشین اور جم کا سامان بھی فراہم کیا گیا ہے ،جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے ناشتے میں کھجور، اخروٹ، شہد، کافی، دلیہ، لسی اور چیا سیڈز شامل ہوتے ہیں، مسمی اور انار کا تازہ جوس بھی ان کی غذا کا حصہ ہے ،دوپہر کے کھانے میں دیسی مرغی، مٹن، سلاد، اچار، آلو چپس، فرائی انڈہ اور مکس دال فراہم کی جاتی ہے ، شام کی غذا میں بادام، کشمش، ناریل پاؤڈر، کھجور، کیلا اور سیب کا شیک دیا جاتا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام بنیادی اور اضافی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو صبح سے شام تک قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کی رسائی حاصل ہے اور انہیں جیل میں مکمل طور پر محفوظ ماحول میں رکھا گیا ہے ۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی اس رپورٹ کے بعد مقدمے کی آئندہ سماعت پر مزید پیش رفت متوقع ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں