پنجاب میں 1کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر،مزدوری پر مجبور کیوں؟:حافظ نعیم
فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والی حکومت نے گڈ گورننس کے دعوئوں کے باوجود عوام اور ملازمین کو مایوس کیا پنشن میں کٹوتی قبول نہیں ،بنیادی صحت مراکز چلانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ،سیکرٹریٹ کے باہر مظاہرین سے خطاب
لاہور(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب حکومت کو خبردار کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی سرکاری ملازمین کے احتجاج کی مکمل حمایت کرتی ہے اور ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔امیر جماعت اسلامی سول سیکرٹریٹ لاہور کے باہر مطالبات کے حق میں دھرنا دینے والے سرکاری ملازمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ میں پہنچے اور شرکا سے خطاب کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پنجاب حکومت بااختیار صوبائی وزرا پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے جو مظاہرین سے مذاکرات کرے اور بعد میں مظاہرین کے وفد کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے ۔ پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر کیوں ہیں اور وہ بچے مزدوری پر مجبور کیوں ہیں ،فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں آنے والی حکومت نے گڈ گورننس کے دعوئوں کے باوجود عوام اور ملازمین کو مایوس کیا ہے ۔ سرکاری ملازمین کی پنشن میں کسی قسم کی کٹوتی قابل قبول نہیں اور ان کے تمام جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کی جائے گی ،بنیادی صحت مراکز چلانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔