سانحہ گل پلازہ:آپریشن کمانڈ کسی کے پاس نہیں تھی،انتظامی ناکامیوں کا اعتراف

سانحہ گل پلازہ:آپریشن کمانڈ کسی کے پاس نہیں تھی،انتظامی ناکامیوں کا اعتراف

ایمرجنسی لائٹس غائب، سیڑھیاں بند، کھڑکیاں سیل ہونیکاانکشاف، اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی دھواں بھرنے اور ایمرجنسی لائٹس نہ ہونے کے باعث ہلاکتیں ہوئیں،جسٹس آغا فیصل ،صدرپلازہ ایسوسی ایشن کا بیان

کراچی (سٹاف رپورٹر) سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں ریسکیو حکام، فائر بریگیڈ حکام اور صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن تنویر پاستا کے متضاد بیانات، اداروں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی، کمیشن نے بجلی کی بندش، ایمرجنسی لائٹس کی عدم موجودگی اور فائر سیفٹی انتظامات پر سخت سوالات اٹھائے ۔جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ، چیف فائر افسر کے ایم سی ہمایوں خان، ڈی سی جنوبی جاوید نبی کھوسو، ایس ایس پی سٹی عارف عزیز، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ، ڈی آئی جی ٹریفک مظہر نواز، سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن علی احمد صدیقی، ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوٹہ، ویلفیئر اداروں کے نمائندگان اور صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن تنویر پاستا پیش ہوئے ۔ ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر ریٹائرڈ واجد صبغت اللہ نے بیان دیا کہ انہیں رات 10 بج کر 35 منٹ پر اطلاع ملی اور 10 بج کر 52 منٹ پر ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔

جب وہ پہنچے تو عمارت میں شدید دھواں اور آگ موجود تھی، تیسرے درجے کی آگ میں درجہ حرارت 800 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور ایسی شدت میں دنیا کا کوئی حفاظتی سوٹ کام نہیں کرتا۔ جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ عمارت میں دھواں بھر جانے اور ایمرجنسی لائٹس نہ ہونے کے باعث ہلاکتیں ہوئیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا دیوار توڑ کر دھواں باہر نہیں نکالا جاسکتا تھا؟ ۔ڈی جی نے جواب دیا کہ دھواں اس قدر گہرا تھا کہ موبائل فون کی روشنی بھی مؤثر نہیں تھی اور انٹری لمیٹڈ تھی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نے کہا کہ ایئر کنڈیشنگ کے ڈکٹ کی وجہ سے آگ تیزی سے عمارت میں پھیلی۔صدر گل پلازہ ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے کمیشن کو بتایا کہ آگ 10 بج کر 10 منٹ پر لگی اور 10 بج کر 17 منٹ پر کے الیکٹرک کو لوکل شٹ ڈاؤن کے لیے کال کی گئی۔ گراؤنڈ فلور کے 16 راستے کھلے تھے اور بیشتر افراد مسجد کے راستے باہر نکلے ۔ 51 دکاندار اور ملازمین جاں بحق ہوئے اور زیادہ تر ہلاکتیں میزانائن اور بالائی منزلوں پر دھویں سے دم گھٹنے کے باعث ہوئیں۔ تنویر پاستا نے ریسکیو اداروں پر تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر فائر بریگیڈ کی مزید گاڑیاں بروقت پہنچ جاتیں تو آگ کو پھیلنے سے روکا جاسکتا تھا۔ گل پلازہ میں ایمرجنسی لائٹس موجود نہیں تھیں اور آگ لگنے کے بعد اعلانات بھی نہیں کیے گئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں