غزہ کیلئے مالی پیکیج، ہزاروں فوجی بھیجنے کے وعدے : امن بورڈ وہ کام کرسکتا جس کا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کرسکتا، پاکستان اور بھارت کی جنگ میں 11 مہنگے جہاز گرے : ٹرمپ

غزہ کیلئے مالی پیکیج، ہزاروں فوجی بھیجنے کے وعدے : امن بورڈ وہ کام کرسکتا جس کا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کرسکتا، پاکستان اور بھارت کی جنگ میں 11 مہنگے جہاز گرے : ٹرمپ

سعودی عرب، امارات سمیت 9ممالک7ارب ڈالر،امریکا 10ارب ڈالر دیگا،انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو ،البانیہ ہزاروں فوجی بھیجیں گے ،مصر ،اردن پولیس کو تربیت دینگے ایران سے متعلق 10 دن میں پتا چل جائیگا،معنی خیز معاہدہ کرنا ہوگا ورنہ برے نتائج سامنے آئیں گے :امریکی صدر ،وزیراعظم کی بحرین، انڈونیشیا و دیگر سربراہان مملکت سے ملاقاتیں

واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں کہا کہ ان کا مقصد غزہ کو مستحکم اور محفوظ بنانا ہے۔ اجلاس کے دوران ٹرمپ نے ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں بورڈ کے کام کی رہنمائی کیلئے مالی شفافیت اور دیانتداری کے اصول وضع کیے گئے ۔اپنی تقریر کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہاکہ ہم غزہ کو سنوارنے جا رہے ہیں، ہم غزہ کو نہایت کامیاب اور محفوظ بنائیں گے ۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کا شکریہ بھی ادا کیا اور مزید کہاکہ یہ امن بورڈ ایک شاندار گروپ ہے ، طاقتور اور ذہین لوگوں کا، اور مجھے یقین ہے کہ ہم وہ کام کر سکتے ہیں جس کا تصور یا سوچ کسی اور کے بس میں نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں اعلان کیا کہ9رکن ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے امدادی پیکیج کے لیے مشترکہ طور پر 7 ارب ڈالر کے فنڈز دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ٹرمپ نے بتایا کہ ان ممالک میں قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا غزہ امن بورڈ کے لیے 10 ارب ڈالر دے گا ،تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کن مقاصد کے لیے استعمال ہو گی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اس منصوبے میں 10 ارب ڈالر کی معاونت کرے گا، جس کا مقصد غزہ کی دوبارہ تعمیر ہے ، جو حماس اور اسرائیل کے دو سالہ جنگ کے نتیجے میں تباہ ہو گیا تھا۔

ٹرمپ نے کہاکہ مل کر ہم اس علاقے میں پائیدار امن کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں، جو صدیوں سے جنگ و مصائب کا شکار رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ مزید امن معاہدے کرنے کے خواہاں ہیں، ایک سادہ سا لفظ امن کہنا آسان ہے ، لیکن کرنا مشکل ہے ۔ ٹرمپ نے کہاکہ ایران کو ایک معنی خیز معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ برے نتائج سامنے آئیں گے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو واشنگٹن کو شاید ایک قدم اور آگے بڑھانا پڑے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ اگلے شاید 10 دنوں میں اس کا اندازہ لگانا شروع کر دیں گے ۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا ذکر کیا۔انہووں نے کہا کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ملک نہیں لڑ رہے تھے لیکن یہ واقعی لڑ رہے تھے ، 11 جنگی جہاز گرائے گئے ، بہت مہنگے جہاز۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس دوران انہوں نے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو کال کی۔انکا کہنا تھا کہ میں نے کہا اگر آپ دونوں نے لڑائی جاری رکھی تو میں آپ دونوں پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دوں گا۔ ان دونوں میں سے ایک (میں نہیں بتاؤں گا کہ کون)نے کہا کہ نہیں۔۔۔ یہ نہیں ہو سکتا۔امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں لڑنا چاہتے تھے لیکن جب بہت زیادہ پیسے کھونے کی بات آئی تو انہوں نے کہا کہ ہم نہیں لڑنا چاہتے ۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ دونوں بہت طاقتور ملک ہیں، دونوں کے پاس ایٹمی طاقت ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو بہت بری چیزیں ہوتیں جن کے بارے میں بات نہیں کروں گا۔انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کے کمانڈر میجر جنرل جیسپر جیفرز کے مطابق اس کے علاوہ انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ نے غزہ سٹیبلائزیشن فورس کے لیے ہزاروں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت کا وعدہ کیا ہے ۔

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک،دنیا نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ غزہ میں پائیدار امن کیلئے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روکیں ،فلسیطن کے عوام اسرائیل کے قبضے کا درد برداشت کر رہے ، آزاد، خودمختار ریاست کا حق دیا جائے ۔غزہ امن بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا غزہ امن بورڈ اجلاس میں شرکت اعزاز کی بات ہے ۔دعا ہے امن کیلئے ٹرمپ کی کوششیں کامیاب ہوں، دعا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی سفارتکاری کی وجہ سے دنیا میں کئی تنازعات حل ہوگئے ۔صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کرا کر کئی جانیں بچائیں ۔امریکی صدر کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ فلسیطن کے عوام اسرائیل کے قبضے کا درد برداشت کر رہے ہیں ۔ غزہ میں پائیدار امن کیلئے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رکنی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق دیا جائے ،آزاد اور خودمختار ریاست فلسطینیوں کا حق ہے ۔دریں اثنا وزیراعظم نے واشنگٹن میں اجلاس میں شریک عالمی رہنماؤں سے غیررسمی ملاقاتیں بھی کیں ۔وزیراعظم جن عالمی رہنماؤں سے ملے ان میں بحرین کے فرمانروا شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ، آذربائیجان کے صدرالہام علیوف شامل ہیں ۔ ازبک صدر شوکت مرزایوف ، قازق صدر قاسم جومارت اور انڈونیشیا کے صدر پرابووسوبیانتو سے بھی ملاقاتیں ہوئیں ۔ اس دوران اہم عالمی و علاقائی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم اور عالمی رہنماؤں کے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا اور غیررسمی گرمجوشی کا اظہار کیا گیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں