نکاح ثابت نہ ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد نان و نفقہ کا پابند : ایف آئی آر میں ذات برادری نہ لکھیں : سپریم کورٹ
پٹیشنر کی جھوٹی کہانی کا ثبوت نہیں:عدالت، بیوی کی بھتیجی سے زیادتی، نکاح کے جھوٹا دعویٰ پر 10لاکھ جرمانہ، اپیل خارج شکل دیکھی ،کیا شاہ رخ خان ہو چار شادیاں کیسے کر لیں؟جسٹس ہاشم ،بادشاہت تھوڑی کہ راضی نامے ہوں:جسٹس اشتیاق
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے ایف آئی آر میں ذات برادری نہ لکھنے کا حکم دے دیا جبکہ قراردیا کہ نکاح ثابت نہ ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد بچے کے نان و نفقہ کا پابندہے ۔سپریم کورٹ نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی سے زیادتی کر کے جھوٹے نکاح کا دعویٰ کرنے والے شخص پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شہزاد کی اپیل خارج کر دی، پٹیشنر نے اپنی بیوی کی سگی بھتیجی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور شرعی نکاح کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ پھوپھی کی موجودگی میں اُس کی سگی بھتیجی سے نکاح قانونی طور پر ممنوعہ حد میں آتا اور یہ جائز نہیں ہو سکتا۔
پٹیشنر نے قانونی رکاوٹ سے بچنے کیلئے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کا من گھڑت دعویٰ کیا، اپنا انسانیت سوز فعل چھپانے کیلئے جھوٹی کہانی گھڑی جس کا قانونی ثبوت نہیں۔ سپریم کورٹ نے پٹیشنر کو متاثرہ خاتون سے پیدا بچے کا حیاتیاتی والد قرار دیا، نکاح ثابت نہ ہونے کے باوجود حیاتیاتی والد اپنے بچے کو نان و نفقہ دینے کا قانونی اور اخلاقی پابند ہے ، معصوم بچے کو والدین کے غیر قانونی تعلق یا تنازعات کی وجہ سے اس کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ پٹیشنر نے عدالتی عمل خاتون کو ہراساں کرنے اور اخلاقی طور پر دبانے کیلئے بطور آلہ استعمال کیا۔ دریں اثنا سپریم کورٹ نے تمام صوبوں اور اسلام آباد کے انسپکٹر جنرلز کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ایف آئی آر، چالان، گرفتاری کی رپورٹس یا کسی بھی قانونی دستاویز میں کسی بھی شخص کی ذات، برادری، قبیلے یا تبدیلی مذہب کا ذکر نہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ملزم ارشد المعروف بیلو کی سزا کے خلاف اپیل کے فیصلے میں واضح کیا کہ برادری، ذات، پیشہ یا سماجی مقام کی بنیاد پر شہری کی شناخت درج کرنا غیرقانونی اور غیراخلاقی ہے ۔ یہ روایتی رویہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 33 کے منافی ہے ، جو ہر شہری کو مساوات، انسانی وقار اور امتیاز سے بچاؤ کی ضمانت دیتا ہے ۔ادھر قصور میں سزائے موت کے ملزم کی اپیل پر سماعت کے دوران مقتول کے والد نے کمرہ عدالت میں ویڈیو لنک پر سابقہ اہلیہ کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔ وکیل مدعی نے کہا مقتول کی والدہ ملزم کو معاف کرنا چاہتی ہیں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا بی بی آپ ملزم کو معاف کیوں کرنا چاہتی ہیں، مقتول کی والدہ نے جواب دیا ملزم کو اللہ واسطے معاف کرنا چاہتی ہوں۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے یہ کوئی بادشاہت کا دور تھوڑی ہے کہ راضی نامے ہوں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے چار شادیاں کرنے والے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تم نے اپنی شکل دیکھی ہے تم کیا شاہ رخ خان ہو چار شادیاں کیسے کر لیں؟مقتول کی والدہ سے مکالمہ میں کہا کہ محترمہ تم اس شخص کی کس چیز پر فدا ہوئی ہیں،وکیل نے کہاکہ یہ پہلے کہہ رہا تھا کہ اس کی دو بیویاں ہیں اب کہہ رہا ہے چار بیویاں ہیں یہ سچ نہیں بتا رہا،عدالت نے آئندہ سماعت لاہور رجسٹری میں رکھنے کی ہدایت کی۔