سرکاری ہسپتال، مریضوں سے ٹیسٹوں کی فیس وصولی جا ری

 سرکاری ہسپتال، مریضوں سے ٹیسٹوں کی فیس وصولی جا ری

ایم آر آئی پلین ٹیسٹ 3ہزار ، کنٹراسٹ 4ہزار ،انجکشن کے ہزاروں وصول مستحق مریض کے ٹیسٹ منظوری کے بعد مفت کر تے ہیں:ہسپتال انتظامیہ

لاہور (بلال چودھری )حکومت پنجاب کے غریب مریضوں کو مکمل مفت علاج معالجہ فراہمی کے دعوؤں کے برعکس شہر کے متعدد سرکاری ہسپتالوں میں اوپی ڈی کے مریضوں سے ریڈیالوجی اور دیگر تشخیصی ٹیسٹوں کی مد میں فیس کی وصولی جا ری ، مستحق مریضوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اوپی ڈی میں آنے والے مریضوں کو ایم آر آئی، سی ٹی سکین، ایکسرے  اور الٹراساؤنڈ ٹیسٹ کیلئے باقاعدہ فیس ادا کرنا پڑتی ہے ،سرکاری ہسپتالوں میں ایم آر آئی پلین ٹیسٹ کی فیس 3 ہزار روپے ،ایم آر آئی کنٹراسٹ کی فیس 4 ہزار ،سی ٹی سکین پلین 1 ہزار اور کنٹراسٹ 1500 روپے میں کیا جا رہا ہے ۔علاوہ ازیں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کنٹراسٹ کیلئے استعمال ہونے والے انجکشن کی مد میں فیس کے علاوہ تقریباً 6 ہزار روپے مزید ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ایکسرے ٹیسٹ 250 روپے جبکہ الٹراساؤنڈ 100 روپے میں کیا جا رہا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ٹیسٹوں میں استعمال ہونیوالی ادویات اور انجکشن بھی مریضوں کو خود خرید کر لانا پڑتے ہیں۔مریضوں اورلواحقین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں یہ اخراجات بوجھ بن چکے ، جبکہ سرکاری سطح پر مفت علاج کے دعوے کئے جاتے ہیں ، کم از کم بنیادی تشخیصی ٹیسٹ تو مکمل طور پر مفت کئے جائیں۔ دوسری جانب ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ غریب اور مستحق مریض کے ٹیسٹ ایڈمن آفس سے منظوری کے بعد مفت کر دیئے جاتے ہیں،ایمرجنسی وارڈ میں تمام تشخیصی ٹیسٹ بلا معاوضہ کرتے ہیں۔ صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی مفت علاج کے وعدے کو عملی شکل دینا چاہتی ہے تو سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی سہولیات کیلئے مستقل فنڈنگ اور واضح پالیسی ناگزیر ہے ۔صوبائی وزیر صحت سپیشلائزد ہیلتھ کیئر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ مستحق مریضوں کو ہر ممکن مفت سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں