رواں سال چار سے پانچ ملین ٹن آلوبرآمدکرنیکافیصلہ

رواں سال چار سے پانچ ملین ٹن آلوبرآمدکرنیکافیصلہ

متبادل روٹ مل گیا،آلو وسطی ایشیائی ممالک بھیجوائیں گے :وفاقی وزیرفوڈ تفتان کا راستہ لمبا مگرآسان ، تجاویز تیار ،ڈپٹی وزیراعظم کو پیش کرینگے :بریفنگ زیتون تیل ،تھرکیمل،این اے آرسی جدت سمیت16 ارب 94 کروڑ کے منظور

اسلام آباد(نامہ نگار)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو آگاہ کیا گیا کہ فیصلہ ہوا ہے کہ اب آلو سینٹرل ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جائیں گے ۔ پیر کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وزارت نے بتایا کہ وزارت  خارجہ ،تجارت اور این ایل سی کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا ہے ، چین کے متبادل روٹ کے ذریعے سینٹرل ایشیائی ممالک کو برآمد کے معاملے پر بات ہوئی ہے ۔پچاس فیصد برآمدی مارکیٹ افغانستان اور روس دونوں بند ہیں ۔

وفاقی وزیر رانا تنویر نے بتایا کہ فیصلہ ہوا ہے اب آلو سینٹرل ایشیائی ممالک کو برآمد کیے جائیں گے ، افغانستان کا متبادل روٹ مل گیا ہے ، اس سال 13ملین میٹرک ٹن آلو کی پیداوار ہوئی ہے ، چار سے پانچ ملین میٹرک ٹن آلو کی ایکسپورٹ ممکن ہو سکے گی۔ تفتان کا راستہ لمبا ہے لیکن آسان ہے ، ہم نے تجاویز تیار کر لی ہیں جو کہ ڈپٹی وزیراعظم کو پیش کریں گے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکسز میں کمی ہو تو معاملہ بہتر ہو سکتاہے ،پچھلے دو سالوں سے کسانوں کا برا حال ہے ۔ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ کے آئندہ مالی سال کیلئے 16 ارب 94 کروڑ کے 13 منصوبے منظور کرلئے جن میں زیتون کے تیل کی بڑھوتری کیلئے 6 ارب 59 کروڑ سے زائد کا منصوبہ ،این اے آر سی مشینری کی جدت بارے ایک ارب کا منصوبہ ، تھر میں لائیو سٹاک کی بہتری و تحفظ بارے تھرکیمل کا 1 ارب 28 کروڑ کا منصوبہ،اونٹ کے دودھ کی پیداوار بڑھانے سے متعلق 80 کروڑ کا منصوبہ شامل ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں