سرکاری ،نیم سرکاری ملازمین کے سروس،پنشن معاملات وفاقی محتسب کا دائرہ اختیار نہیں:آئینی عدالت

سرکاری ،نیم سرکاری ملازمین کے سروس،پنشن معاملات  وفاقی  محتسب  کا  دائرہ  اختیار  نہیں:آئینی  عدالت

ایسی شکایات پر حکم قانوناً برقرار نہیں رہ سکتا، مجاز فورم سے رجوع کیاجا سکتا:تحریری فیصلہ، ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار پ دور سے فائل دکھا رہے ، میری نظر 6/6نہیں:جسٹس عامر کا وکیل سے مکالمہ، جوڈیشل الاؤنس کیس میں نوٹس

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کے ملازمین کے ذاتی سروس اور پنشن سے متعلق معاملات وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ، لہٰذا اس نوعیت کی شکایات پر جاری احکامات قانوناً برقرار نہیں رہ سکتے ۔جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار غلام عباس نے پنشن اور مراعات کے معاملے پر ٹیلی فون انڈسٹریز کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا، جس نے کمپنی کو پنشن معاملات طے کرنے کی ہدایت دی۔ کمپنی نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جہاں وفاقی محتسب اور صدر مملکت کے احکامات کالعدم قرار دے دیے گئے ۔عدالت نے قرار دیا کہ ذاتی سروس اور پنشن سے متعلق معاملات وفاقی محتسب کے اختیار میں نہیں آتے ، لہٰذا غیر مجاز فورم کا کوئی بھی حکم قانون کی نظر میں کالعدم ہوگا۔

عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور درخواست گزار کو مجاز فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے وکیل کو دور سے فائل دکھانے پر ریمارکس دیے کہ "آپ دور سے فائل دکھا رہے ہیں، میری نظر 6/6 نہیں۔ اگر 6/6 ہو تب بھی اس فاصلے سے متن نہیں پڑھا جا سکتا۔" انہوں نے ازراہِ مزاح کہا کہ شاید وکلا دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے پڑھ سکتے ہوں، مگر وہ اس طرح نہیں پڑھ سکتے ۔عدالت نے قرار دیا کہ جوڈیشل الاؤنس سے متعلق متعدد کیٹیگریز ہیں اور ایک ہی سماعت میں اتنے پیچیدہ معاملے کا فیصلہ ممکن نہیں۔ ہر کیٹیگری کا کیس الگ سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی۔وفاقی آئینی عدالت نے محکمہ ایجوکیشن سندھ میں خاتون ٹیچر رابیل بھٹو کی تقرری سے متعلق درخواست ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی کو بھجوا دی۔عدالت نے ہدایت کی کہ ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی مناسب غور و خوض کے بعد قانون کے مطابق حتمی فیصلہ کرے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں