بیوی حوالگی کیس:خاتون بیٹے کی تحویل سے شوہر کے سپرد

 بیوی حوالگی کیس:خاتون بیٹے کی تحویل سے شوہر کے سپرد

بیٹے نے ماں کو زبردستی پاس رکھا ہے :سابق ڈی جی ایف آئی اے میاں امین عدالتی حکم پر بیلف نے بزرگ خاتون کو وہیل چیئر پر عدالت میں پیش کیا ایس ایس پی سپیشل برانچ کی بیلف سے بدتمیزی پر عدالت کا اظہاربرہمی میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہتے توبیٹازبردستی نہیں کرسکتا:چیف جسٹس ہائیکورٹ

لاہور (کورٹ رپورٹر ) لاہور ہائی کورٹ میں بیوی کی حوالگی سے متعلق دائر ایک انوکھے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے خاتون کو بیٹے کی تحویل سے لے کر شوہر کے حوالے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔درخواست گزار سابق ڈی جی ایف آئی اے میاں محمد امین نے مو قف اختیار کیا کہ ان کا بیٹا، جو ایس ایس پی سپیشل برانچ کے عہدے پر فائز ہے ، ان کی اہلیہ کو زبردستی اپنے پاس رکھے ہوئے ہے اور انہیں شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دے رہا۔عدالتی حکم پر بیلف تنویر حسین نے بزرگ خاتون کو وہیل چیئر پر عدالت میں پیش کیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس د یئے کہ اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو بیٹے کو زبردستی ماں کو اپنے پاس رکھنے کا کوئی اختیار نہیں۔ آئین ہر شہری کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا بنیادی حق دیتا ہے ۔ایس ایس پی بیٹے نے عدالت کو بتایا کہ والدہ شدید بیمار ہیں اور وہ ان کی مکمل دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ عدالت نے بیلف کے ساتھ مبینہ بدتمیزی پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ خاتون کا علاج کس ہسپتال سے کرایا جا رہا ہے ۔ وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر گھر آ کر معائنہ کرتا ہے اور دو ملازمین ہمہ وقت موجود رہتے ہیں، تاہم ملازمہ ڈاکٹر کا نام نہ بتا سکی۔عدالت نے خاتون کو بیٹے کی کسٹڈی سے لے کر شوہر کے ساتھ بھجوا دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں