گوہر ، کھوسہ ، حامد کدھر ہیں ؟علیمہ خان بر س پڑیں

 گوہر ، کھوسہ ، حامد کدھر ہیں ؟علیمہ خان بر س پڑیں

معلوم غدار کون، رہنما بتائے بغیر فیصلے کررہے ،ہمارے بغیر علاج کا فیصلہ نہیں ہوگا میں وکیل ہوتی تو رات بھربیٹھ کرتیاری کرتی اورکیس فائل کرتی:پریس کانفرنس

اسلام آباد،راولپنڈی (اپنے نامہ نگارسے ،خبرنگار، مانیٹرنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھی طرح جانتے ہیں غدارکون ہے ؟ رہنما بغیر بتائے فیصلے کر رہے ہیں، جو عمران خان کے بیانیے کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، وہ سائیڈ پر ہو جائے ، پارٹی ہماری اجازت کے بغیر بانی کی صحت پر کوئی بیان یا فیصلہ نہ دے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا وہ گزشتہ 13 ماہ سے بانی پی ٹی آئی کے کیسز مقرر کرانے کے لیے عدالت آ رہی ہیں مگر شنوائی نہیں ہو رہی۔ جب بھی وہ یا خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ عدالت آتے ہیں تو چیف جسٹس کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کہاں غائب ہیں؟ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے ، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہ لگوا سکے ، ہم اچھی طرح جانتے ہیں پارٹی میں غدار کون ہے۔

شرم ناک ہے کہ پارٹی رہنما اکیلے محسن نقوی سے رابطے کرتے رہے ، انہیں نہیں بتایا، بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق ان کی مشاورت کے بغیر کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا مسئلہ ہے ،میں وکیل ہوتی تو رات بھربیٹھ کرتیاری کرتی اورکیس فائل کرتی، جتنے وکلا کو ٹکٹ ملے ہیں، سارا سارا دن جیل کے باہرکھڑے ہوتے تھے ، اب نظر نہیں آتے ۔انہوں نے کہا محسن نقوی نے جو دعوے کیے ان کو کاؤنٹر نہیں کیا گیا، محسن نقوی سے معلوم ہوا بیرسٹرگوہر جیل جارہے ہیں، محسن نقوی سے اپنے اہلخانہ کی معلومات ملیں گی یا اپنی پارٹی سے ؟محسن نقوی نے بہنوں کو قصور وار کہا، اس بیان کا جواب کیوں نہیں دیا گیا، پارٹی خاموش ہے ، ہمیں جو باتیں محسن نقوی سے پتا چل رہی ہیں وہ بیرسٹرگوہر سے پتا چلنی چاہیے تھیں، بانی نے کئی بار کہا کہ میرے وکلا سے کہیں کہ میرے کیسز لگوائیں، ہم آ کر بیٹھ سکتی ہیں تو وکلا کیوں نہیں آتے ؟انہوں نے کہا جو لوگ سینیٹرز اور ایم این ایز ہیں ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پریشر ڈالیں تاکہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز لگ سکیں، محسن نقوی نے کہا تھا کہ گوہر صاحب نے چیک اپ کے وقت ساتھ آنا تھا اس کا مطلب ہے ان سب کو پتا تھا، جو بات چیت کر رہے تھے ، بات چیت کے لئے کانفرنس کال پر محمود اچکزئی ،گوہر اور اسد قیصر تھے مجھے نہیں پتہ اور کون تھے سب نے ہم سے چھپایا سوال ہے کہ کیوں چھپایا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں