علیمہ خود کو پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کا متبادل سمجھ رہیں
سینیٹرحامد خان زیادہ دیر تک علیمہ خان کی تنقید برداشت نہیں کریں گے
(تجزیہ:سلمان غنی)
پی ٹی آئی کے اندرونی بحران میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آ رہی ہے اور خود بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور ان سے ملاقات کے عمل پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں اور کوئی اس حوالے سے خود کو جوابدہ نہیں سمجھتا اور اب تو خود عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے باقاعدہ پارٹی کی لیڈر شپ کو ٹارگٹ کرتے ہوئے شدید تحفظات ظاہر کئے ہیں اور بہت سے سوالات اٹھا دئیے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہیں اعتماد میں لئے بغیر فیصلے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی لیڈر شپ سے کہا کہ وہ ہمارے بھائی کی صحت پر سیاست نہ کریں، علیمہ خان کے تحفظات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ وہ بانی کی صحت اور مقدمات سے متعلق پریشان ہیں۔ بہنوں کی حیثیت سے ان کی پریشانی روزمرہ بنیادوں پر بڑھتی نظر آ رہی ہے اس لئے کہ انہیں کہیں سے ریلیف ملتا نظر نہیں آ رہا ،ان کی ملاقاتیں ہوتی رہیں لیکن جب انہیں پتا چلتا ہے کہ ان کی لیڈر شپ کی حکومتی ذمہ د اران سے ملاقاتیں اور رابطے ہو رہے ہیں لیکن ان کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تو ان کی پریشانی اور ردعمل نظر آتا ہے ،ویسے بھی علیمہ خان خود کو پارٹی میں بانی پی ٹی آئی کا متبادل سمجھتی ہیں اور انہوں نے بظاہر تو اس کا اظہار نہیں کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے طرز عمل اور خصوصاً بیانات اور اعلانات سے دیگر قائدین کو انڈر پریشر رکھا ہوا ہے ۔
جہاں تک پارٹی کے سینئر وکلا کے منظر سے غائب ہونے کا تعلق ہے تو لطیف کھوسہ اور علی ظفر پہلے پہل تو متحرک دکھائی دئیے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ پسپا ہوتے نظر آئے اس کی بڑی وجہ فیصلہ سازی میں ان کا کردار نہ ہونا ہے جہاں تک سینیٹر حامد خان کے منظر سے غائب ہونے کا سوال ہے تو ان کا اپنا ایک خاص انداز ہے اور وہ پارٹی میں پیدا شدہ کیفیت اور خصوصاً عمران خان کی بہنوں کے بڑھتے ہوئے کردار سے نالاں ہیں اور ان کو قریب سے جاننے والے یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اگر علیمہ خان نے انہیں ٹارگٹ کیا اور سینیٹر بننے کے طعنے دئیے تو وہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک برداشت نہیں کریں گے ،اس لئے کہ حامد خاں خود بانی پی ٹی آئی کے سامنے بھی مخصوص انداز اپنانے کی شہرت رکھتے ہیں اور پی ٹی آئی کی حکومت بننے پر انہوں نے از خود خاموشی اختیار کر لی تھی ۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ قانونی شعبہ سے تعلق رکھنے والے لیڈرز نہ تو احتجاج اور احتجاجی تحریک کو لیڈ کر سکے اور نہ ہی عدالتوں سے عمران خان کو ریلیف دلا سکے ۔ ماہرین کے مطابق پارٹی کی اصل طاقت خود بانی پی ٹی آئی تھے اور ہیں لیکن جیل میں ہونے کی وجہ سے قیادت کا بحران ہے جبکہ جیل میں موجود قیادت اور جیل سے باہر رہنماؤں کے درمیان رابطے کے مسائل نے پارٹی کو کنفیوژن سے دوچار کر رکھا ہے اور پی ٹی آئی کے احتجاجی بیانیہ اور پارلیمانی سیاست کے درمیان بھی تضاد نظر آ رہا ہے اور پارٹی کے اندر طاقت کے توازن کی کشمکش بھی ہے ، اس میں علیمہ خان بھی ایک مضبوط فیکٹر کے طور پر موجود ہیں جو کہ خاندان کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے ۔لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے تحفظات کچھ حد تک تو درست ہیں لیکن انہیں مکمل سیاسی کیفیت کہنا بھی درست نہیں کیونکہ اس میں اندرونی سیاست جذباتی ردعمل اور اثرو رسوخ کی کشمکش بھی شامل ہوسکتی ہے ۔