نیب نے سی بی آر ریذیڈینشیاکیخلاف انکوائری کی منظوری دیدی

 نیب نے سی بی آر ریذیڈینشیاکیخلاف انکوائری کی منظوری دیدی

کروڑوں روپے وصول کئے ، قبضہ نہ ملا، 200سے زائد متاثرین کی شکایات جو اراضی سی بی آر ریذیڈینشیا کی ظاہر کی گئی وہ کسی اور کے قبضہ میں ہے انکوائری کا مقصد الزامات کی جانچ پڑتال متاثرین کو ریلیف کی فراہمی ہے :حکام

 راولپنڈی(نیوزرپورٹر) نیب اسلام آباد ، راولپنڈی کے ریجنل بورڈ نے سی بی آر ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور ایمایس الفجر ایسوسی ایٹس کی انتظامیہ کے خلاف عوام سے مبینہ دھوکہ دہی کے معاملے پر انکوائری کی منظوری دے دی ۔ذرائع کے مطابق200سے زائد سوسائٹی ممبران اور عام شہریوں نے شکایات کی ہیں کہ سی بی آر ریذیڈینشیا منصوبے میں تیارشدہ پلاٹس کی مد میں کروڑوں روپے وصول کئے جانے کے باوجود تاحال قبضہ نہیں دیا گیا، حالانکہ منصوبے کے آغاز کو کئی سال گزر چکے ہیں ،دستیاب معلومات کے مطابق یہ منصوبہ 2018 میں ٹھلیاں انٹرچینج، راولپنڈی کے قریب سی بی آر ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اور ایم/ایس الفجر ایسوسی ایٹس کے مابین مشترکہ منصوبے کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ ایم/ایس الفجر ایسوسی ایٹس کو مطلوبہ اراضی سوسائٹی کے نام منتقل کرنے اور متعلقہ دعوئوں کو نمٹانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی ،سوسائٹی نے تشہیر کے ذریعے خود کو راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے منظور شدہ منصوبہ ظاہر کرتے ہوئے پلاٹس فروخت کئے اور دو سال کے اندر (2019/2020 تک) منصوبہ مکمل کر کے قبضہ دینے کا وعدہ کیا۔ تاہم متاثرین کے مطابق بھاری رقوم وصول کئے جانے کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔مزید برآں یہ بات بھی سامنے آ ئی کہ جس اراضی کو سی بی آر ریزیڈینشیا کے لئے مختص ظاہر کیا گیا تھا، وہ اس وقت مبینہ طور پر ایم/ایس فیصل ٹاؤن کے قبضے میں ہے ۔نیب حکام کے مطابق انکوائری کا مقصد الزامات کی جانچ پڑتال متاثرین کو ممکنہ ریلیف کی فراہم کرنا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں