چین،روس،قطر،ترکیہ اور سعودی عرب ثالثی کیلئے متحرک:تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں:ترجمان افغان طالبان

چین،روس،قطر،ترکیہ اور سعودی  عرب ثالثی کیلئے متحرک:تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں:ترجمان افغان طالبان

اسحاق ڈار سے مصری ،قطر ی، ترک ،سعودی وزرا خارجہ کا رابطہ، ایران کی بھی ثالثی کی پیشکش،ہر قسم کی دہشتگردی کیخلاف کارروائی کے حامی، مذاکرات سے مسئلہ حل کریں:چین پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کیا جانا چاہیے :ملائیشیا، مذاکرات میں شامل ہوں:برطانیہ،شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں:ریڈ کراس،اچھے مثبت تعلقات چاہتے :ذبیح اللہ

اسلام آباد ،بیجنگ، ماسکو، ریاض(نمائندہ دنیا،وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک)چین، روس، ترکیہ ، قطر اور سعودی عرب پاکستان اور افغانستان میں لڑائی رکوانے اور تنازع کے حل کی خاطر ثالثی کیلئے متحرک ہوگئے ، جبکہ ترجمان افغان طالبان نے بھی کہا ہے کہ تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان جاری پرتشدد جھڑپوں کو ختم کرانے کے لئے فریقین سے رابطے میں ہے ۔پاک افغان کشیدگی پر ترجمان چینی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان قریبی ہمسایہ ملک ہیں اور دونوں چین کے بھی پڑوسی ہیں، چین تنازع میں شدت آنے پر گہری  تشویش رکھتا ہے ۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین موجودہ صورتحال میں ہونے والی پیش رفت کو بغور دیکھ رہا ہے ، اس تصادم میں ہونے والی جانی ہلاکتوں پر دلی افسوس کا اظہار کرتا ہے ، چین ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتا ہے ۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہناتھا کہ چین فریقین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، اپنے اختلافات اور تنازعات کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کریں، چین اپنے ذرائع سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوششیں کرتا رہا ہے ، دونوں ممالک کے تعلقات بہتر بنانے کے لیے آئندہ بھی تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔

روسی وزیرِخارجہ سرگئی لاوروف نے بھی پاکستان اور افغانستان سے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔روسی وزیرِخارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان اور افغانستان سے اختلافات حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا درخواست کی گئی تو پاکستان اور افغانستان کے لیے ثالثی پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ادھر ایران نے بھی کابل اور اسلام آباد کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کردی، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا اختلافات کو بات چیت اور حسن ہمسائیگی کے اصولوں کے تحت حل کریں۔عباس عراقچی نے کہا کہ رمضان المبارک صبر، برداشت اور اسلامی یکجہتی کا مہینہ ہے ، اس لیے دونوں ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے ۔ایران اس عمل میں تعاون کے لیے تیار ہے اور کابل و اسلام آباد کے درمیان تعمیری مکالمے ، باہمی اعتماد اور تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کر سکتا ہے ۔دریں اثنا سعودی عرب اور قطر بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہلاکت خیز جھڑپوں کو روکنے کیلئے کوششوں میں مصروف ہیں۔مقصد یہ ہے کہ \"صورتحال کو قابو سے باہر ہونے سے بچایا جائے اور اسے قابو میں رکھا جائے ۔

افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی نے قطر کے چیف مذاکرات کار سے رابطہ کیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا دونوں ممالک بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی سختی سے پابندی کریں۔انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے سرحدی جھڑپوں اور مہلک فضائی حملوں کے بعد افغانستان اور پاکستان سے مسائل کے حل کے لیے باہمی بات چیت کی اپیل کی ہے ۔ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے پاکستان اور افغانستان کے مابین جاری تصادم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران یہ لڑائی تکلیف دہ ہے ۔انہوں نے کہا اس تصادم کے دوران دونوں طرف ہونے والا جانی نقصان دُکھ کا باعث ہے ۔انور ابراہیم نے کہا میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مخاصمت میں اضافے کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھتا ہوں، جس میں حالیہ دنوں میں سرحد پار سے فوجی آپریشنز اور دو ہمسایہ مسلم ممالک کے درمیان کھلے عام تنازعات کے اعلانات دیکھے گئے ہیں۔ ملائیشیا پاکستان اور افغانستان دونوں پر زور دیتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تمام فوجی آپریشن فوری طور پر بند کر دیں۔پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو دور کیا جانا چا ہئے ۔ اسی طرح افغانستان کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا بھی احترام کیا جانا چا ہئے ۔ یہ دونوں تقاضے متضاد نہیں ہیں۔ ان پر مذاکرات کی میز پر ہی بات ہو سکتی ہے ۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جو چیزیں جوڑتی ہیں وہ کسی بھی عارضی اختلاف سے کہیں زیادہ اہم ہیں، اس لیے فریقین کو چاہیے کہ وہ بات چیت کا راستہ اختیار کریں، قومی مفادات کو مقدم رکھیں اور اختلافات کو ختم کر کے امن و استحکام کے قیام اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔حماس کے بیان میں کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب صیہونی ریاست غزہ میں اپنے جرائم کے بعد عالمی تنہائی کو توڑنے کے لیے نئے اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے ، امت کو اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے ، اس لیے موجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی ممالک باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ادھر پاکستان کی افغانستان کے خلاف جوابی کارروائی پر قطر کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ۔ذرائع کے مطابق قطر نے پاکستان سے درخواست کی کہ کشیدگی نہ بڑھائی جائے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔ 27 فروری کو قطر نے طالبان سے بھی رابطہ کیا اور ثالثی کی خواہش کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر کے علاوہ ترکیہ بھی تنازع کے خاتمے کے لیے سرگرم ہے ۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور طالبان سے بھی بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق ترکیہ کی جانب سے تنازع ختم کرنے کے لیے تجاویز پیش کئے جانے کا امکان ہے ،تاہم پاکستان نے تاحال کسی بھی ثالثی کی کوشش کے حوالے سے واضح جواب نہیں دیا۔ قطر اور ترکیہ کے علاوہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور اسحاق ڈار کے درمیان بھی رابطہ ہوا، جس میں پاک افغان تنازع پر گفتگو کی گئی۔ اسی طرح مصر کے وزیر خارجہ اور اسحاق ڈار کے درمیان بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے ان وزرائے خارجہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف پاکستان کا جواب متوازن مگر فیصلہ کن تھا، اور پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے آپریشن غضب للحق کے تحت کامیاب کارروائیاں کیں۔ رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ترقی پذیر پیش رفت پر رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ نے تناز ع کے پرامن حل اور اور امن و استحکام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی تمام کوششوں کیلئے قطر کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی کی صدر مرجانا سپولجرک نے کہا شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور طبی سہولیات تک رسائی کی ضمانت دی جائے ۔

انہوں نے کہا ان کی تنظیم فیلڈ میں انسانی ضروریات کے پیشِ نظر عملی ردِعمل کی تیاری کر رہی ہے ، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انسانی امدادی کارروائی اس سیاسی عزم کا بدل نہیں ہو سکتی جو جنگ کے قوانین کا احترام کرنے اور کشیدگی میں کمی کو ترجیح دینے کے لیے درکار ہے ۔ برطانیہ کی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر نے بھی پاک افغانستان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ،برطانیہ کی اعلیٰ سفارت کار نے ایک بیان میں کہاہم دونوں فریقوں سے فوری اقدامات کرنے ، مزید شہری نقصان سے بچنے ، اور ثالثی شدہ مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔دوسر ی جانب پاک فوج کی سخت جوابی کارروائی کے بعد افغان حکومت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کردی۔افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے باوجود افغانستان بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے ۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم نے بارہا پرامن حل پر زور دیا ہے اور اب بھی چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔انہوں نے کہا ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں ، ہم نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا،ہم ہمسائیوں اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، پاکستان کے اندرونی تنازع سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں