سینیٹ:افغان جارحیت کا فیصلہ کن جواب ، قرارداد منظور
افغا نستان سازشی اقدامات بند کرے ، سیاسی قیادت ملکی دفاع میں متحد :متن دہشتگرد باز نہ آئے تو ختم کردینگے :رانا ثنا ، عمران قوم کو اکٹھا کرسکتے ،ناصر عباس
اسلام آباد (اپنے رپورٹرسے ،مانیٹرنگ ڈیسک) ایوان بالا نے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی بلااشتعال جارحیت،سرحد پار کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین اور تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متفقہ قرار داد منظور کر لی ۔ قرارداد سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کو قومی وقار پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا بھرپور، متناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایوان نے ملکی سرحدوں کے دفاع میں مستعد رہنے پر افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سینیٹ نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان نے گزشتہ چالیس برسوں کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت، امن کی کوششوں میں سہولت کاری اور عالمی فورمز پر افغانستان کے استحکام کی وکالت کے باعث بھاری معاشی، سماجی اور سکیورٹی بوجھ برداشت کیا ۔
سینیٹ نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام سازشی اقدامات بند کرے ،بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کرے ۔قرارداد میں بتایا گیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں متحد ہے ۔ سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ افغانستان کی دراندازی کا پاکستانی مسلح افواج نے بہترین جواب دیا، دہشتگردوں کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں، دہشتگرد اگر اپنی کارروائیوں سے باز نہیں آتے تو انہیں ختم کردیا جائے گا۔ سیاسی معاملات کو میز پر بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے ۔اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عمران خان قوم کو اکٹھا کرسکتے ہیں دہشتگردی کی جنگ کو ختم کرنے کا ایک راستہ جنگ ہے دوسرا رستہ بات چیت ہے وہ بھی کی جائے ، ہمسایوں کی دشمنیاں خطرناک ہوتی ہیں ۔ موجودہ جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہونا چاہئے ۔