افغان جارحیت پر سینیٹ میں یکجہتی،قومی سلامتی کا پہلو نمایاں رہا

افغان جارحیت پر سینیٹ میں یکجہتی،قومی سلامتی کا پہلو نمایاں رہا

متفقہ قرارداد کے بعد ایوان میں سیاسی اختلافات سے بالاتر مشترکہ مؤقف اپنایا گیا ارکان کی تقاریر میں دفاع وطن، عوامی جذبات اور داخلی اتحاد پر غیرمعمولی زور

اسلام آباد (سید قیصر شاہ)سینیٹ میں افغانستا ن کی حالیہ جارحیت کے خلاف منظور کی گئی متفقہ قرارداد کے بعد ایوان کا ماحول غیرمعمولی یکجہتی کا مظہر دکھائی دیا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تقاریر میں سیاسی اختلافات کے بجائے قومی سلامتی کا پہلو نمایاں رہا اور بار بار اس عزم کا اظہار کیا جاتا رہا کہ دفاعِ وطن کے معاملے پر پوری قوم ایک صفحے پر ہے ۔ قرارداد کی منظوری کے بعد مختلف ارکان نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور افغان اقدام کو بلااشتعال قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں، اس کے باوجود حالیہ پیش رفت افسوسناک ہے ۔ ایوان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے مواقع پر تمام سیاسی و گروہی اختلافات پسِ پشت ڈال دینا ہی قومی تقاضا ہے ۔اجلاس کے دوران یہ تاثر بھی نمایاں رہا کہ عوامی سطح پر پائے جانے والے غم و غصے کی بازگشت ایوان میں سنائی دے رہی ہے ۔ ارکان نے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح اب بھی مسلح افواج ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔ گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی رہا کہ داخلی اتحاد اور یکجہتی ہی پاکستان کے استحکام اور دفاع کی اصل ضمانت ہے ، اور اسی جذبے کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں