امریکہ ،بھارت اسرائیل ،،تثلیث خبیثہ،،حکومت غزہ بورڈ سے علیحدہ ہو:حافظ نعیم
ایران سے یکجہتی کیلئے کل احتجاج ،حکومت ،اپوزیشن کھل کر حملوں کی مذمت کریں:امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم ایرانی سفارتخانے گئے ، آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت ، ایرانی سفیر نے کاوشوں کو سراہا
اسلام آباد،لاہور (اپنے رپورٹر سے ،سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ایرانی حکومت اور عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی مبینہ جارحیت کے خلاف کل جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ نام نہاد ‘‘غزہ امن بورڈ’’ سے فوری طور پر علیحدگی اختیار کرے ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے امریکا ، بھارت اور اسرائیل کو ‘‘تثلیثِ خبیثہ’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم غزہ امن بورڈ محض ایک ڈھکوسلا ہے ،حکومت اپوزیشن کھل کر ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی مذمت کر ے ۔قبل ازیں نعیم الرحمن نے وفد کے ہمراہ ایران کے سفارت خانے میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم سے ملاقات کی اور رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر قائدین کی اسرائیلی و امریکی کارروائیوں میں شہادت پر تعزیت اور شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے ایرانی سفیر کو یقین دلایا کہ پاکستانی قوم اور جماعت اسلامی موجودہ حالات میں ایران کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔ ایرانی سفیر نے اظہارِ یکجہتی پر شکریہ ادا کیا اور اتحادِ امت کے لیے جماعت اسلامی کی کاوشوں کو سراہا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر کے سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ٹرمپ کو جنگی مجرم قرار دیا جائے ۔ وزیراعظم ، ٹرمپ سے متعلق اپنے مو قف پر نظرثانی کریں ، انہوں نے کراچی میں امریکی قونصل خانہ کے سامنے مظاہرین پر گولیاں برسانے اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی شہادتوں کی شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ دہرایا اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں حکومتوں پر زور دیا کہ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چا ہئے ، اسلام آباد و کابل کو امن کو موقع دینا چا ہئے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین اور ایران کی حمایت کے لیے بلائے جانے والے ہر فورم میں جماعت اسلامی شرکت کرے گی۔