حکومت کا رویہ سخت،فوٹو سیشن کیلئے نہیں بیٹھیں گے ،گوہر
یہ لوگ ہمیں اہمیت نہیں دیتے ،بانی سے ملاقات نہ انکا ذاتی معالجین سے معائنہ افغانستان برادر اسلامی ملک ،مذاکرات کا آپشن کھلا رکھنا چاہیے ،میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں شریک نہ ہونے کے حوالے سے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں ہونے دی جارہی ، ان کی فیملی سے ملاقات نہیں کروائی جارہی ، ذاتی معالجین سے معائنہ نہیں کروایا جارہا۔ آپ کا رویہ انتہائی سخت ہے اور پھر آپ کہتے ہیں کہ فوٹو سیشن کے لیے آپ کے ساتھ آکر بیٹھ جائیں، ایسا نہیں ہوگا، بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اصولی موقف اپنایا ہے کہ پارلیمنٹ میں بریفننگ دی جائے ،ہم چاہ رہے تھے کہ افغانستان اور ایران امریکا کشیدگی پر بریفنگ لیں لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے جوائنٹ سیشن میں، کب تک ہم ان کے ساتھ بیٹھتے رہیں گے ، جب یہ ہمیں اہمیت ہی نہیں دیتے ، ہماری پارلیمان میں موجودگی کو تسلیم نہیں کرتے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہا، مولانا فضل الرحمان نے منگل کو قومی اسمبلی میں میری نشست پر آکر وزیراعظم کی بریفنگ میں شرکت کا پیغام دیا تھا ، میں ان کا مشکور ہوں،پاک فوج ہماری ہے یہ ملک ہمارا ہے ، فوج قربانیاں دے رہی ہے ہم اس کو سلام پیش کرتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا، افغانستان سے جو دہشتگردی ہورہی ہے ان کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملنی چاہیے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ، دہشتگردوں کو پیچھا کرکے ان کومنطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک بھی ہے مذاکرات کا آپشن بھی کھلا رکھنا چاہیے ۔