کیا بیٹے کے جرم کا فیصلہ باپ سے کرائینگے ؟آئین کے تحت اپیل کا حق لازم :شریعت اپیلٹ بینچ

کیا  بیٹے  کے  جرم  کا  فیصلہ  باپ  سے  کرائینگے ؟آئین  کے  تحت  اپیل  کا  حق  لازم :شریعت  اپیلٹ  بینچ

اپیل آرمی چیف یا نامزد افسر کے پاس جاتی، سزاؤں کیخلاف ٹربیونل قائم نہیں کیا جاتا تو معاملہ سول فورم پر جا سکتا:جسٹس مندوخیل الزامات ہی نہ بتائے تو ملزم اپیل کس چیز کی کریگا؟ جسٹس عرفان، فوجی سزاؤں کیخلاف اپیل کا حق کیس میں اٹارنی جنرل کو نوٹس

اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے فوجی اہلکاروں کو فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق اور تحریری فیصلہ فراہم کرنے  سے متعلق اہم کیس کی سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کر دیا۔ پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اپیل آرمی چیف یا ان کے نامزد افسر کے پاس جاتی ہے جبکہ آرمی چیف خود فوج کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کیا بیٹے کے جرم کا فیصلہ باپ سے کروائیں گے ؟ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت اپیل کا حق دینا لازم ہے اور اگر سزاؤں کے خلاف ٹربیونل قائم نہیں کیا جاتا تو پھر معاملہ سول فورم پر بھی جا سکتا ہے ۔ سات رکنی بینچ اس معاملے پر فیصلہ دے چکا تاہم انہوں نے اس فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سات رکنی بینچ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں، چیف آف آرمی سٹاف کے بعد ملزم کہاں رجوع کرے گا؟ آیا آرمی کے اہلکار سروس آف پاکستان میں آتے ہیں یا نہیں۔

جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیئے ملزم کو یہ بتایا جانا چاہیے کہ اس پر کون سے الزامات ثابت ہوئے ۔ اگر ملزم کو الزامات ہی نہ بتائے جائیں تو وہ کس چیز کی اپیل کرے گا؟ جس بنیاد پر سزا دی گئی وہ تو بتانا ہوگا، ملزم کو اپنے جرم کا علم ہونا چاہیے ، عدالت کو پہلی، دوسری یا تیسری اپیل سے مسئلہ نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اپیل میں ملزم کی لائن آف ڈیفنس کیا ہوگی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دگل نے کہا وہ اس معاملے پر ہدایات لے لیتے ہیں، حکومتی اپیل صرف ایک آبزرویشن کی حد تک محدود ہے ۔ عدالت نے عدالتی معاون اسلم خاکی کو تحریری موقف جمع کرانے کی ہدایت کی۔ واضح رہے وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزمان کو عدالتی فیصلوں کی نقول فراہم کرنے کے لیے چھ ماہ میں قانونی ترامیم کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف وفاقی حکومت اور وزارت دفاع نے 2008 میں سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں