وزیراعظم آ فس ایس آئی یو ،20عالمی کمپنیوں کو کنسلٹنسی کی پیشکش
پائیدار ادارے کا مقصد گورننس فریم ورک، آپریٹنگ ماڈل ورک فلو کو منظم کر نا ہے ریپڈ رسپانس ٹاسک فورس براہ راست وزیراعظم پی ایم او کیلئے کام کریگی ، قواعد جاری
اسلام آباد (ایس ایم زمان)اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم آفس کے تحت سٹر ٹیجک امپلیمنٹیشن یونٹ (ایس آئی یو) کو فعال بنانے کیلئے کنسلٹنسی سروسز کے قواعد جاری کر د ئیے ہیں اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 20بین الاقوامی کمپنیوں کو ایس آئی یو کو فعال کرنے کیلئے کنسلٹنسی خدمات کی پیشکش ارسال کر دی ۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق منصوبے کا مقصد پائیدار ادارہ قائم کرنا ہے جو بین الاقوامی طریقوں کے مطابق گورننس فریم ورک، آپریٹنگ ماڈل اور ورک فلو کو منظم کر سکے ،مذکورہ یونٹ کو فعال بنانا اور اس کے لئے ضروری ٹولز کی تیاری کنسلٹنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہوگی تاکہ حکومتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے ۔منصوبے کے اہم حصے "ورٹیکل اے " کے تحت ایک ریپڈ رسپانس ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جو براہِ راست وزیراعظم اور پی ایم او کے لئے کام کرے گی۔ یہ ٹاسک فورس مختلف وزارتوں، سرکاری اداروں اور ریگولیٹرز کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا فوری اور آزادانہ تجزیہ کرنے اور ان کا اسٹریس ٹیسٹ کرنے کی پابند ہوگی۔اسی طرح "ورٹیکل بی" کے تحت پانچ مخصوص شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کا حتمی تعین اور ان کے لئے ماہرین کی خدمات کا حصول معاہدے پر دستخط کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق منصوبے میں ٹیم لیڈر اور پراجیکٹ منیجر کے عہدوں پر ایک ہی شخص کام نہیں کر سکے گا بلکہ یہ دونوں الگ الگ ماہرین ہوں گے ۔ کمپنیوں کو دو پراجیکٹ منیجرز کی تفصیلی سی ویز فراہم کرنا لازمی ہونگی تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا جائزہ لیا جا سکے ۔مزید برآں کسی بھی قسم کے کنسورشیم یا جوائنٹ وینچر کی اجازت نہیں ہوگی اور صرف وہی فرمز اہل تصور ہوں گی جن کے پاس براہِ راست متعلقہ خدمات کا تجربہ موجود ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق فی الحال کسی پری بڈ میٹنگ کا شیڈول طے نہیں کیا گیا ۔