بھارتی دہشتگردی ،کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل کے شواہد بے نقاب
بھارت غیر ملکی مداخلت کا بڑا مجرم ،سنگین جرائم میں ملوث:کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسی
اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل کے شواہد ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ، کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ترجمان کے مطابق بھارت کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کا بڑا مجرم ہے ۔کینیڈین اخبار نیشنل پوسٹ کے مطابق کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ترجمان ایرک بالسام نے ای میل کے ذریعے اس موقف کی تصدیق کی کہ بھارت کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت اور جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔
سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد کینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ کینیڈا کے سابق وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو نجار کے قتل میں بھارتی عناصر کے ممکنہ ملوث ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت سے منسلک بعض عناصر کینیڈا میں قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہیں ۔دفاعی و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی راکے کردار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کینیڈا میں جاری تحقیقات اور سفارتی روابط کے نتائج اس معاملے کی سمت کا تعین کریں گے ۔