نیب بل منظور، چیئرمین کی 3 سال توسیع، وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر ہوسکے گی : اپوزیشن کا احتجاج
نذیر احمد کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن، نئے چیئرمین کی تقرری تک کام جاری رکھ سکیں گے ،تحقیقات کیلئے مالی حد 50 کروڑ سے کم کر کے 30 کروڑ کر دی گئی بااثر اپنے کیسز ختم کرائینگے :چیئر مین پی ٹی آئی ،سب قانون سازی عمران خان کے خلاف کی جارہی :علی ظفر ، اپوزیشن چیئرمین نیب تقرری سے مائنس :کامران مرتضیٰ
اسلام آباد (وقائع نگار، نامہ نگار)سینیٹ اور قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود نیب ترمیمی بل منظور کر لیا جس کی صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی منظوری دے دی، نئے قانون کے تحت حکومت کو چیئرمین نیب کی مدت میں تین سال کی توسیع کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ احتساب عدالت یا ہائی کورٹ کے پاس ضمانت دینے یا مجرم کو بری کرنے کا اختیار ہوگا اور وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر ہوسکے گی۔ قانون میں ترمیم کے بعد وزارت قانون نے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد کے عہدے کی مدت میں 3 سال کی توسیع کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا،نذیر احمد کی مدت ملازمت میں توسیع 6 مارچ 2026 سے مؤثر ہوگی۔ سینیٹ اجلاس میں سینیٹر عبدالقادر نے نیب ترمیمی بل منظوری کے لئے پیش کیا تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا ۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بل نہ ایجنڈا میں ہے اور نہ ہی اسے ضمنی ایجنڈا کے طور پر لایا گیا ۔بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بل میں کہا گیا کہ چیئرمین نیب کی مدت میں تین سال کی توسیع ہو سکے گی۔ نیب عدالت اور ہائی کورٹ کوڈ آف کریمنل پروسیجر کی سیکشن 439، 496، 497، اور 498 کے مجرم کی ضمانت کر سکتی ہے یا اسے بری کر سکتی ہے ۔ نیب ترمیمی بل کے تحت تحقیقات کیلئے مالی حد میں کمی کی گئی ہے ۔ قومی احتساب آرڈیننس میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے حد 50 کروڑ سے کم کر کے 30 کروڑ کر دی گئی۔ چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت اب ناقابلِ توسیع کے بجائے ‘‘قابلِ توسیع’’ ہوگی۔ نئے چیئرمین کی تقرری تک موجودہ چیئرمین اپنے عہدے پر کام جاری رکھ سکیں گے ۔ بل کے تحت نیب چیئرمین کی مدت ختم ہونے کے باوجود وہ عہدے سے فارغ نہیں ہوں گے ۔ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (وفاقی آئینی عدالت) میں سیکنڈ اپیل کا حق دینے کی تجویزہے ۔سیکنڈ اپیل صرف قانون کے اہم سوالات اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے پر ہو سکے گی۔سینیٹر علی ظفرنے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل کہیں اور سے آیا ہے ۔آج کوئی نجی ممبر ڈے نہیں۔
نیب ترمیمی بل منظور کراکے آج منہ پر طمانچہ مارا گیا۔یہ ڈیموکریٹک رویت کے خلاف ہے ۔یہ بل حکومت کو آگے جا کر کاٹے گا۔یہ سب قانون سازی بانی پی ٹی آئی کے خلاف کی جارہی ہے ۔ کامران مرتضیٰ نے نیب بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا جو ہو گا وہ انصاف کے منافی ہو گا، پہلے چیئرمین نیب کی تقرری میں اپوزیشن کی رضا مندی ہوتی تھی۔آج اپوزیشن چیئرمین نیب کی تقرری سے مائنس ہو گئی ۔دوسری اپیل کو آئینی عدالت کی بجائے سپریم کورٹ ہی جانا چاہیے تھا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ایران پر ظلم ہوا ایران کو حق نہیں برادر اسلامی ملک پر حملہ کرے ۔ اسلامی برادر ممالک سے ایران پر حملے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کو اداروں نے اٹھایا ہے ۔ گرفتار نوجوانوں کو رہا کیا جائے ۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود قومی اسمبلی نے بھی نیب ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی۔ ضمنی ایجنڈا کے ذریعے حکومتی رکن اسمبلی مہہ جبین خان عباسی نے نیب ترمیمی بل 2026 پیش کیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس بل میں چار ترامیم ہیں پہلے یہ کہ ہائیکورٹ کے پاس ضمانت کے اختیار ات پر ابہام تھا اور یہ بحث کی جاتی تھی ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کیسز میں ضمانت لبرل ہونی چاہیے ، اگر کوئی چیئرمین اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کو مدت ملازمت میں توسیع ملنی چاہیے ، اسی طرح 50کروڑ کی سیلینگ میں مہنگائی کو شامل کیا جائے اور اسی طرح نیب کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق وفاقی آئینی عدالت کو بھی دیا جائے اور اب متاثرہ شخص کو دو اپیلوں کا حق حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ان ترامیم کی مخالفت نہیں کرے گی۔پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی بیرسٹر گوہر نے کہاکہ اثر و رسوخ والے لوگ اپنے کیسز ختم کرائیں گے ،یہ چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں اضافہ کر رہے ہیں اور اس وقت چیئرمین نیب کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے ۔بیرسٹر گوہر نے حکومت سے بل واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ رکن اسمبلی عالیہ کامران نے کہاکہ سیکشن 32میں اپیل کا حق وفاقی آئینی عدالت کو دیا جارہا ہے جو کہ درست نہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس بل کے حوالے سے ترامیم پیش کرنا چاہتی ہوں۔ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ بل کی مخالفت نہیں کرنا چاہتے اس طرح کے بل پیش کرنے سے پہلے اراکین کو بھجوانا چاہیے تھا۔ وفاقی وزیر قانون نے کہاکہ یہ دوسری اپیل کا حق ہے جو کہ آئین کے مطابق وفاقی شرعی عدالت سن سکتی ہے ۔ بیرسٹر گوہر نے کہاکہ جس طریقے سے چیئرمین کی تقرری ہوتی ہے اسی طریقے سے حکومت چیئرمین کو مدت میں توسیع دے سکتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اب اختیار دوبارہ حکومت کو دیا جارہا ہے ۔ وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہ اپوزیشن جو کل ایران پر اسرائیل کے حملے جیسے حساس معاملے پر وزیراعظم کی دعوت کے باوجود مشاورت کے لیے نہیں آئی وہ آج نیب قوانین میں ترمیم پرمشاورت مانگ رہی ہے ۔
ڈپٹی سپیکر نے بل کی شق وار رائے لینے کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا۔بعد ازاں صدر آصف علی زرداری نے نیب ترمیمی بل سمیت پارلیمنٹ سے منظور کیے گئے متعدد بلوں اور متعدد متعلقہ سمریوں کی منظوری دے دی ۔نیب ترمیمی بل کے علاوہ دیگر بلوں میں مجازی اثاثوں کا بل ،اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز (ترمیمی)بل، نجکاری کمیشن (ترمیمی)بل، کینابیس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل شامل ہیں۔صدر نے وفاقی آئینی عدالت کے ججز (چھوٹی، پنشن اور مراعات) آرڈر 2025 میں ترامیم کی بھی منظوری دی۔اس کے علاوہ انہوں نے اسلام آباد کے ماتحت جوڈیشری سروس ٹربیونل کی ازسرنو تشکیل کی بھی منظوری دی۔صدر مملکت نے لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں وفاقی آئینی عدالت کی برانچ رجسٹریوں کے قیام کی بھی منظوری دی۔