بھارت، کینیڈا یورینیم معاہدہ تشویشناک، جنوبی ایشیا کا سٹریٹجک توازن متاثر ہوگا : پاکستان

بھارت، کینیڈا یورینیم معاہدہ تشویشناک، جنوبی ایشیا کا سٹریٹجک توازن متاثر ہوگا : پاکستان

بھارتی تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنے سے باہر ، استثنیٰ عالمی عدم پھیلا ئو نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا حکومت نے ایران سمیت بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی معاونت کیلئے بروقت ،فعال اقدامات کئے ،ترجمان دفتر خارجہ

 اسلام آباد (وقائع نگار، نیوز ایجنسیاں) پاکستان نے بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ جنوبی ایشیا کے سٹر ٹیجک توازن کو متاثر کر سکتا ہے ، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ سول نیوکلیئر تعاون میں ایک اور استثنیٰ ہے ، بھارت کا 1974 میں ایٹمی تجربہ ہی نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے قیام کا سبب بنا تھا، بھارت نے تمام سول نیوکلیئر تنصیبات IAEA کی نگرانی میں نہیں رکھیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ کئی بھارتی نیوکلیئر تنصیبات اب بھی بین الاقوامی معائنے سے باہر ہیں، بیرونی یورینیم سپلائی بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے ۔ پاکستان نے سول نیوکلیئر تعاون کیلئے غیر امتیازی اور اصولوں پر مبنی نظام پر زور دیا، ترجمان نے کہا کہ منتخب استثنیٰ عالمی عدم پھیلا ئو کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان نے ایران سے پاکستانی شہریوں کے انخلا کو آسان بنانے اور بیرون ملک مختلف مقامات پر پھنسے اپنے شہریوں کی معاونت کیلئے بروقت اور فعال اقدامات کئے ہیں ، پاکستانی شہریوں کے ایران سے انخلا اور خطے کے دیگر ممالک میں موجود پاکستانیوں کی سہولت کیلئے کئے گئے اقدامات سے متعلق ذرائع ابلاغ کے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزارت خارجہ کا کرائسز مینجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے فعال ہے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو درکار معاونت فراہم کررہا ہے ۔

وزیراعظم کی ہدایات پر بیرون ملک پاکستانی سفارتی مشنز میں سپیشل فسیلیٹیشن ڈیسک قائم کئے گئے ہیں تاکہ پھنسے پاکستانی شہریوں کو ویزا سہولت، لاجسٹکس اور سفری انتظامات میں مدد کی جاسکے۔ ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ مشنز نے خصوصی موبائل ایپلیکیشنز، رجسٹریشن پورٹلز اور ہیلپ لائنز بھی متعارف کرائی ہیں تاکہ پاکستانی شہریوں تک بروقت رسائی اور مدد ممکن بنائی جاسکے ۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ فضائی رابطوں کی جزوی بحالی کے بعد بیرونِ ملک پھنسے پاکستانی شہری کمرشل پروازوں کے ذریعے واپسی شروع کرچکے ہیں ،حکومتِ پاکستان بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ان کے تحفظ اور ان کی محفوظ اور بروقت واپسی کو یقینی بنانے کے لئے مکمل طور پر پرعزم ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں