وفاقی وزارتوں،محکموں میں 1 لاکھ 8ہزار 175 اسامیاں خالی
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں میں ایک لاکھ 8 ہزار 175 اسامیاں خالی ہیں۔
وقفہ سوالات کے دوران تحریری طور پر ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور اتھارٹیز میں اس وقت ایک لاکھ 72 ہزار 234 سامیاں خالی ہیں،گریڈ کے مطابق خالی اسامیوں کے اعدادوشمار جمع کرنے کے لیے وقت درکار ہے ۔ گزشتہ دو برس میں 44 ہزار 314 اسامیاں ختم کی گئی ہیں۔گزشتہ دو برس میں سرپلس پول میں جانے والے 620 ملازمین کو ایڈجسٹ کیا گیا ۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے بتایا کہ ملک کی سائبر سکیورٹی کے تحفظ کے حوالے سے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ رکن اسمبلی داور کنڈی نے کہاکہ فائر وال پر کتنی لاگت آئی ہے اور کیا یہ ملکی ترقی میں رکاؤٹ نہیں ہے جس پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہاکہ سائبر سیکورٹی کا فریم ورک منظور ہوا ہے اس کے تحت تمام صوبوں اور وفاق میں انسرٹ قائم کئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی صارف کا ڈیٹا متاثر نہ ہو ۔اس وقت پوری وفاقی حکومت ڈیجیٹلائز ہوکر پیپر لیس ہوگئی ہے اسی طرح تمام وزارتوں کو بھی ڈیجیٹلائزیشن میں لا رہے ہیں ۔وزیر آئی ٹی نے کہاکہ یوفون اور زونگ کے انضمام کیلئے تمام مراحل مکمل کئے جاچکے ہیں ۔ مسلم لیگ( ن )کے ابرار احمد نے کہاکہ پاکستان بیت المال نے ناقص سلائی مشینیں فراہم کی تھیں جس پر ایم ڈی نے بتایا کہ اس کی انکوائری ہورہی ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے کہاکہ بیت المال علاج و معالجہ کے لئے نقد امدادد یتاہے اور مستحق مریضوں کو اس وقت 15لاکھ روپے تک فراہم کئے جاتے ہیں اسی طرح 75ہزار تک تنخواہ لینے والوں کو میڈیکل اور تعلیم کی مد میں امداد فراہم کی جاتی ہے ۔ طارق فضل نے کہاکہ ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے ملک میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری آئی ۔بعدازاں قومی اسمبلی کااجلاس آج دن 11بجے تک ملتوی کردیا گیا۔