حکومتی قرضوں میں سالانہ 10 فیصد اضافہ، 79 ہزار 322 ارب ہو گئے
جنوری 2025ء ، مجموعی قرضوں کا حجم 72 ہزار 124 ارب روپے تھا:اعدادوشمار بڑھتے حجم سے حکومت پر سود کی ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے :ماہرین
لاہور (زاہدعابد )مرکزی حکومت پر قرضوں کا بوجھ مزید بڑھ گیا ، مجموعی سرکاری قرضوں میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 10فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق جنوری 2026 ئتک مرکزی حکومت پر مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ کر 79ہزار 322ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025ء میں مرکزی حکومت پر مجموعی قرضوں کا حجم 72ہزار 124ارب روپے تھا، جس کے مقابلے میں ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق مجموعی قرضوں میں مقامی قرضوں کا حجم سالانہ بنیادوں پر 11فیصد بڑھا ، جنوری 2026 ئتک مقامی قرضوں کا حجم 55ہزار 978ارب روپے تک پہنچ گیا،اسی طرح بیرونی قرضوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ سال بھر کے دوران بیرونی قرضوں کے حجم میں 6اعشاریہ 7 فیصد اضافہ ہوا اور جنوری 2026 ء تک بیرونی قرضوں کی مجموعی رقم 23 ہزار 344 ارب روپے ہو گئی۔سٹیٹ بینک ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کے طویل مدتی قرضوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ، ایک سال کے دوران طویل مدتی قرضوں کا حجم 12اعشاریہ 7 فیصد بڑھ کر جنوری 2026 ء میں 47 ہزار 152 ارب روپے تک پہنچ گیا۔دوسری جانب قلیل مدتی قرضوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور ان کا حجم 5اعشاریہ 2 فیصد اضافے کے بعد 8 ہزار 784 ارب روپے ہو گیا ۔ماہرین کے مطابق قرضوں کے بڑھتے حجم سے حکومت پر سود کی ادائیگیوں کا دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔