سربجیت کیخلاف دائر اعتراضی درخواست پر سماعت، دلائل طلب

سربجیت کیخلاف دائر اعتراضی درخواست پر سماعت، دلائل طلب

جسٹس فاروق نے ابتدائی سماعت کی، کیس کی مزید کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی عالمی قوانین کے تحت بھارتی شہری کسی پاکستانی کو اٹارنی مقرر کر سکتا :وکیل درخواستگزار

لاہور (کورٹ رپورٹر )لاہور ہائیکورٹ میں بھارتی شہری کرنیل سنگھ کی جانب سے اہلیہ سربجیت کور (نور فاطمہ)کے پاکستان میں نکاح کیخلاف دائر اعتراضی درخواست پر سماعت،جسٹس فاروق حیدر نے ابتدائی سماعت کے بعد کیس کی مزید کارروائی آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ، بھارتی شہری کی جانب سے کسی پاکستانی شہری کو اٹارنی مقرر کرنے کی قانونی حیثیت پر دلائل طلب کر لئے ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت کی ۔سماعت کے دوران کرنیل سنگھ کی جانب سے ایڈووکیٹ نواز شیخ اور ایڈووکیٹ علی چنگیزی سندھو عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار نے سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ کو اپنا نمائندہ مقرر کر کے درخواست دائر کی تھی، تاہم رجسٹرار آفس نے درخواست پر متعدد اعتراضات عائد کئے ، رجسٹرار آفس کے مطابق پیش کردہ سپیشل پاور آف اٹارنی محکمہ خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں جبکہ درخواست گزار نے نکاح منسوخی کیلئے متعلقہ فورم سے رجوع بھی نہیں کیا۔درخواست گزار کے وکیل نواز شیخ نے مو قف اختیار کیا کہ پاکستان عالمی ہیومن رائٹس کنونشن کا رکن ہے اور عالمی قوانین کے تحت بھارتی شہری کسی پاکستانی شہری کو اپنا اٹارنی مقرر کر سکتا ہے ۔ وکیل نے مزید وضاحت کیلئے عدالت سے مہلت بھی طلب کی۔درخواست میں مو قف اختیار کیا گیا ہے کہ سربجیت کور 3 نومبر 2025ئکو 10 روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئیں اور انہیں بلیک میل کر کے جبری طور پر مسلمان کیا گیا،ہندو میرج ایکٹ کے تحت مذہب تبدیل ہونے سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی، لہذا عدالت سربجیت کور کی مسلمان مرد سے شادی کالعدم قرار دے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں