ہرجانہ کیس:بانی کوکئی بارمہلت دی 4سال بعدجواب آیا،جسٹس ہاشم
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ میں دس ارب روپے ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کا حقِ دفاع ختم کرنے کے معاملے پر دائرنظرثانی درخواستوں کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔
جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل کے معاون نے بتایا کہ راشد حفیظ اس وقت لندن میں ہیں استدعا ہے کہ کیس آئندہ ہفتے تک ملتوی کیا جائے ،جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ آج درخواست گزار کو سن لیتے ہیں جبکہ آئندہ سماعت پر دوسرے فریق کے دلائل سن لیے جائیں گے ،جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو کئی مرتبہ دعوے کا جواب جمع کرانے کیلئے مہلت دی تھی، چار سال بعد دعوے کا جواب جمع کروایا گیا، کیا اتنی تاخیر کے باوجود عدالت سخت حکم جاری نہ کرتی ؟ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے وکیل کو ہدایت کی کہ دلائل دیتے وقت نظرثانی کے دائرہ اختیار کو بھی مدنظر رکھا جائے ،بانی پی ٹی آئی کی جانب سے علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی زخمی تھے اور ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں زخمی ہونے کے پہلو پر کوئی رائے نہیں دی گئی،سول کورٹ نے آٹھ نومبر تک بانی پی ٹی آئی کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا تھا تاہم تین نومبر 2022 کو ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے باعث وہ ہسپتال میں زیر علاج رہے ۔ان کے مطابق 8 اور 17 نومبر 2022 کی سماعتوں میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے زخمی ہونے کو تسلیم کیا تھا لیکن اس کے باوجود 22 نومبر 2022 کو حق دفاع ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ یہ سزائے موت کا مقدمہ نہیں کہ حق دفاع بحال ہونے سے کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو جائے ۔انہوں نے کہا سکیورٹی خدشات کے باعث وکلا کی بانی پی ٹی آئی سے ہسپتال میں ملاقاتیں بھی روک دی گئی تھیں اور انہیں بیان حلفی کیلئے ہسپتال سے باہر لانا ممکن نہیں تھا،حق دفاع کی بحالی شفاف ٹرائل کا بنیادی تقاضا ہے ۔ عدالت نے سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی ۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 2017 میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا ۔ بانی پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں پانامہ پیپر سکینڈل کے معاملے سے پیچھے ہٹنے کے بدلے دس ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔