خطے میں پاکستان سب سے مہنگا پٹرول فروخت کرنیوالا ملک، طیاروں کے فیول کی قیمت بلندی پر، مٹی کے تیل کی قیمت بھی 130 روپے بڑھا دی گئی : مہنگائی کاریلا، ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ
مٹی کے تیل کی قیمت 318 روپے 81 پیسے فی لٹر ہوگئی ،لائٹ ڈیزل بھی 67 روپے 82 پیسے مہنگا ، طیاروں کے فیول کی قیمت 154روپے بڑھا ئی گئی ،ہوائی سفر مہنگاہونے کا امکان ریلوے کے کرائے 10 فیصد تک، بسوں کے اوسطاً 9 اعشاریہ48 فیصد،گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے 25 فیصد بڑھ گئے ،تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں8سے 15فیصد تک اضافہ متوقع
لاہور،اسلام آباد،(اپنے کامرس رپورٹر سے ،کورٹ رپورٹر،دنیا نیوز)پاکستان خطے میں سب سے زیادہ پٹرول مہنگا فروخت کرنے والا ملک بن گیا ،حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کا تیل130روپے 8پیسے ،لائٹ ڈیزل بھی 67 روپے 82 پیسے فی لٹر مہنگا کر دیا، جیٹ فیول کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کر دیاگیا ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ،مال بردار ٹرانسپورٹ اور ریلوے ٹرینوں کے کرایوں میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ،دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے ۔ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور اور پشاور ہائیکورٹس میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ حکومت نے ملک میں مٹی کے تیل ،لائٹ ڈیزل کی قیمت میں بھی تاریخی اضافہ کر دیا ،جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کا تیل130روپے 8پیسے فی لٹر مہنگا ہونے سے نئی قیمت318 روپے 81پیسے فی لٹر ہوگئی جبکہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 67 روپے 82 پیسے فی لٹر بڑھا دی گئی جس سے اس کی نئی قیمت 235 روپے 1 پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی۔
مٹی کے تیل پر 20 روپے 36 پیسے اورلائٹ ڈیزل پر اس وقت 15 روپے 84 پیسے فی لٹر لیوی بھی عائد ہے ۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کر دیا گیا ، اس سے پہلے مٹی کے تیل کی قیمت 188 روپے 73 پیسے فی لٹر تھی۔ علاوہ ازیں حکومت نے ایئر لائنز کے طیاروں کیلئے جیٹ فیول کی قیمت میں 154 روپے فی لٹر اضافہ کردیا جس کے بعد جیٹ فیول کی قیمت 188.93 روپے سے بڑھ کر342.37 روپے کی ریکارڈ سطح پرپہنچ گئی ،جیٹ فیول کی قیمت میں 82 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،جیٹ فیول کی قیمت بڑھنے سے ایئر لائنز کے کرایوں میں5 ہزار روپے تک اضافے کا امکان ہے ۔ ادھر پاکستان ریلوے نے ڈیزل قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کے بعد ٹرینوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے ، پاکستان ریلویز نے اکانومی کلاس کے کرایوں میں 5 فیصد ،اے سی کلاسز کے کرایوں میں 10 فیصد اور مال گاڑیوں کے کرایوں میں 20 فیصد اضافہ کیا ہے۔
ترجمان پاکستان ریلویز کے مطابق اضافے کا اطلاق کل 9 مارچ سے تمام مال گاڑیوں اور مسافر ٹرینوں کے کرایوں پر ہو گا تاہم پہلے سے کی گئی بکنگ پر اضافہ لاگو نہیں ہوگا۔،ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ٹرین کرایوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔دریں اثنا محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب نے صوبے بھر کے بین الاضلاعی روٹس پر کرایوں میں اوسطاً 9 اعشاریہ48 فیصد اضافہ کرتے ہوئے نیا کرایہ نامہ جاری کر دیا ۔نئے کرایہ نامے کے مطابق لاہور سے اسلام آباد اکانومی بس کا کرایہ 2 ہزار 70 روپے سے بڑھ کر 2 ہزار 450روپے ،مری کا کرایہ 2 ہزار 570 سے بڑھ کر 3 ہزار 40 روپے ،لاہور سے پشاور کا کرایہ 2 ہزار 820 روپے سے بڑھ کر 3ہزار 323روپے تک پہنچ گیا جبکہ مانسہرہ کاکرایہ 2ہزار710سے بڑھ کر 3 ہزار 200روپے مقرر کیا گیا ہے ۔اسی طرح بٹگرام اور مظفرآباد کے روٹس پر کرایہ 3 ہزار 30 روپے سے بڑھ کر 3 ہزار 580روپے تک جا پہنچا۔
فیصل آباد کاکرایہ1120روپے سے بڑھ کر 1320روپے ، جھنگ کا 1360سے بڑھ کر1610روپے ،ملتان کا کرایہ 1870سے بڑھ کر 2210 روپے جبکہ وہاڑی کاکرایہ 1800 سے بڑھ کر2ہزار110 روپے تک پہنچ گیا ۔ لاہور سے کراچی کا کرایہ 6 ہزار260روپے سے بڑھ کر 7 ہزار 390 روپے مقرر کیا گیا ہے ۔مسافروں کا کہنا ہے کہ حکومت کرایوں میں کمی کے لیے اقدامات کرے جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے متعلقہ افسروں کو فیلڈ میں متحرک کر دیا اور کرایوں کی نئی لسٹیں جاری کرانے کی ہدایات بھی کی گئی ہیں ۔صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ زائد کرایہ وصول کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائیگی ۔راولپنڈی میں بھی ٹرانسپورٹروں نے اندرون شہر چلنے والی ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکل رکشہ اور ٹیکسی کے کرایوں میں30فیصد اضافہ کر دیا جبکہ جی ٹی روڈ اور ملحقہ بین الاضلاعی سڑکوں پر چلنے والی انٹر سٹی ٹرانسپورٹ کے کرایے بھی بڑھا دیئے گئے۔
صدر پبلک ٹرانسپورٹ فیڈریشن جنوبی پنجاب رانا محمد اصغر کا کہنا ہے کہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے کرایوں میں اضافہ کرنا مجبوری بن گیا تھا۔اعلامیے کے مطابق مختلف روٹس کے کرایوں میں 20 فیصد اضافے کے بعد نئے کرائے نافذ کردیئے گئے ۔ ملتان سے مظفر گڑھ کا کرایہ 450 سے 520 روپے ، ملتان تا قصور 1750 سے 2000 روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ دریں اثناء ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اوسطاً 25 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو پورا کیا جا سکے ۔لاہور سے کراچی کے روٹ پر 20 فٹ کنٹینر کا کرایہ پہلے 72 ہزار سے 86 ہزار روپے کے درمیان تھا جو اب بڑھ کر تقریباً 90 ہزار سے 1 لاکھ 6 ہزار 250پچاس روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ اسی طرح 40 فٹ ہائی کیوب کنٹینر کا کرایہ 1 لاکھ 25 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک اور ٹرک لوڈ کا کرایہ 1 لاکھ 8 ہزار روپے سے بڑھ کر تقریباً 1 لاکھ 35 ہزار روپے ہو گیا ۔اسی طرح لاہور سے اسلام آباد /راولپنڈی مزدا 18 فٹ کا کرایہ 45ہزار روپے سے بڑھ کر 56ہزار250 روپے تک پہنچ گیا جبکہ لاہور سے اسلام آباد شہزور 9 فٹ کا کرایہ 30ہزار روپے سے بڑھ کر تقریباً 37ہزار روپے ہو گیا ہے۔
علاوہ ازیں لاہور سے اسلام آباد ٹرک لوڈ کا کرایہ 65ہزار روپے سے بڑھ کر تقریباً 81ہزار250 روپے ہو گیا ۔لاہور سے ملتان مزدا 20 فٹ کا کرایہ 40ہزار روپے سے بڑھ کر تقریباً 50 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے ،لاہور سے کوئٹہ ٹرک لوڈ کرایہ ایک لاکھ 30 ہزار روپے سے بڑھ کر تقریباً ایک لاکھ 62 ہزار 500 روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے کے بعد کرایوں میں اضافہ ناگزیر تھا ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے ملک بھر میں اشیائے خور ونوش اور دیگر مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے ۔ دوسری طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ اور پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ میں جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے اظہرصدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر اضافہ کر دیا ،قیمتوں میں اضافہ غیرقانونی اورعوام دشمن اقدام ہے ، کمپنیوں کے پاس 15دن کاسٹاک موجود ہونے کے باوجود قیمتیں بڑھاناغیرقانونی ہے ،اوگرا اور وزارت توانائی 15دن کے ذخائر کی تفصیلات عدالت پیش کریں، عدالت قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔
علاوہ ازیں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد اس کے اثرات مختلف معاشی شعبوں تک پہنچنے لگے ہیں،ابتدائی اندازوں کے مطابق تعمیراتی سامان کی مجموعی لاگت میں بھی 8 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے جس کا بوجھ سرکاری منصوبوں اور عام شہری دونوں کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مارکیٹ میں اس وقت سیمنٹ کے 50 کلوگرام بیگ کی قیمت 1300سے 1400 روپے کے درمیان ہے ، تاہم ٹرانسپورٹ اخراجات بڑھنے کے باعث اس میں مزید 5 سے 8 فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔اسی طرح سٹیل سریا جو اس وقت300سے 320روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے ، اس کی قیمت میں 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے ۔بجری اور کرشڈ سٹون کی قیمتیں بھی بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ اینٹوں کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔ سڑکوں اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں استعمال ہونے والا بٹومین بھی مہنگائی کی زد میں آ سکتا ہے۔
اگر سرکاری ترقیاتی منصوبوں کی بات کی جائے تو ایک ارب روپے کے منصوبے پر بھی لاگت میں 10 سے 18 کروڑ روپے تک اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ صنعتی شعبے کے نمائندوں سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ارکان اسمبلی اور سرکاری افسروں کے فیول کوٹے میں بھی 50فیصد کمی کی جائے ،عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کا تمام تر بوجھ عوام پر نہ ڈالا جائے کیونکہ صارفین پہلے ہی 121 اور 118روپے فی لٹر ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد اکرام نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکدم لگ بھگ 20 فیصد کا اضافہ کیا گیا جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام اور کاروباری برادری کے لیے انتہائی تشویش ناک ہے۔
ادھر ترجمان اوگرا نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قلت کی خبروں کو مسترد کردیا ، عمران غزنوی نے نجی ٹی وی سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ملک میں اس وقت پٹرول اور ڈیزل وافر مقدار میں موجود ہے اور کوئی قلت نہیں ، لوگ قیمت بڑھنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ تیل خریدنا چاہتے تھے ،مارکیٹ میں اب افواہیں دم توڑ گئی ہیں اور افراتفری ختم ہو چکی ۔خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے ایک روز قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لٹر ہو چکی اور پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا ہے کیونکہ بھارت میں لٹر پٹرول کی قیمت94روپے 77پیسے ، سری لنکا میں 293 روپے ہے ، بنگلہ دیش میں بھی پٹرول کی قیمت پاکستان سے انتہائی کم ہے جہاں لٹرپٹرول 116 ٹکا میں فروخت ہوتا ہے جبکہ افغانستان میں پٹرول 57افغانی (250روپے )میں فروخت ہورہا ہے ۔