ویڈلاک پالیسی :فیڈرل ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،اے پی پی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ویڈلاک پالیسی کے تحت تبادلے سے متعلق فیڈرل سروس ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کر دیا ۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے ۔ عدالت نے سماعت کے دوران اہم قانونی سوال اٹھایا کہ آیا ویڈلاک پالیسی کسی سرکاری ملازم کو مستقل طور پر ایک ہی سٹیشن پر تعینات رہنے کا حق فراہم کرتی ہے یا نہیں۔ایف بی آر کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر پیش ہوئے ۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل کا فیصلہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے قانونی فریم ورک کے منافی ہے ۔وکیل ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن 10 کے تحت حکومت کو سرکاری ملازمین کی تعیناتیوں اور تبادلوں کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔ ان کے مطابق کوئی بھی سول سرونٹ کسی مخصوص شہر یا سٹیشن پر تعیناتی کا مستقل حق نہیں رکھتا کیونکہ سرکاری ملازم ریاست کی خدمت کے لیے ہوتا ہے ، کسی خاص مقام کے لیے نہیں۔ ابتدائی دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا اور کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔