جنگ طویل ہوئی تو پاکستان کو واضح پوزیشن لینا ہوگی :ماہرین
فوج کی مختلف محاذوں پر توجہ ہونے ودیگر مسائل پاکستان کو درپیش آ سکتے
اسلام آباد (مانیٹرنگ نیوز )ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطٰی جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کیلئے کوئی واضح پوزیشن لینا ضروری ہو جائے گا اور یہ آسان چیلنج نہیں ہوگا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ پاکستان کی انرجی سکیورٹی اس صورتحال میں داؤ پر لگ سکتی ہے ، ہماری بہت سی توانائی کی ضروریات ایران پوری کرتا ہے تو بہت سی ضروریات سعودی عرب سے پوری ہوتی ہیں۔ ہماری فوج ایک طرف افغانستان کے حوالے سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مصروف ہے، دوسری طرف ہمارا دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ ہم بورڈ آف پیس میں بھی مصروف ہیں تو فوج کی مختلف محاذوں پر توجہ ہونے سمیت دیگر مسائل پاکستان کو درپیش آ سکتے ہیں۔
قمر چیمہ کے مطابق پاکستان کسی ایک طرف نہیں جھکے گا۔ پاکستان جس جانب جھکے گا اس میں یا تو بین الاقوامی قوانین ہوں گے یا معاہدے ہوں گے ،تو یہی بات موجودہ صورتحال میں نظر آتی ہے ۔ابھی تک امریکہ کے فوجی اڈوں کے تناظر میں سعودی عرب پر حملہ ہوا، تاہم اگر سعودی عرب کی سرزمین پر حملہ ہوتا ہے ، سعودی عرب کی پراپرٹی انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے اور سعودی حکومت کہتی ہے کہ حملہ کرنا ہے تو پاکستان کسی صورت اپنے معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ان کے مطابق ایران سمیت تمام دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے تو وہ کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں موجود فوجی اڈوں پر بہت کم حملے کیے کیونکہ ایران کو پہلے ہی متنبہ کر دیا گیا تھا کہ یہ چیز آپ کے لیے اچھی نہیں ہو سکتی کیونکہ سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کی صورت میں ہمیں معاہدے کے تحت کسی بھی وقت اس جنگ میں کودنا پڑے گا۔ سابق سفیر آصف درانی نے واضح کیا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران سعودی عرب کا دشمن نہیں ہے ۔